ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے اور آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز پر بار بار ہونے والے حملوں کی وجہ سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ عالمی سطح پر کشیدہ صورتحال کے باعث تیل کی شرح میں ایک ڈالر سے زائد کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ان واقعات کی اطلاعات کے بعد تیل کی قیمتوں میں فوری طور پر تیزی آ گئی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں مسلسل دباؤ کا شکار ہیں جس کی بنیادی وجہ خطے میں بحری آمدورفت اور سیکیورٹی خدشات سے متعلق جاری غیر یقینی صورتحال ہے۔
خام تیل کے عالمی نرخوں میں اضافہ:
غیر ملکی خبر ایجنسی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت میں 1.45 ڈالر یا 1.67 فیصد کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد یہ 88.52 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا۔ دوسری جانب امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت میں بھی 1.15 ڈالر کا اضافہ دیکھا گیا اور اس کی نئی قیمت 82.40 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کو پَر لگ گئے: تیل 90 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گیا
علاقائی تناؤ کے سبب دونوں بین الاقوامی معیار کے خام تیل میں ہفتہ وار بنیادوں پر بھی بڑا اضافہ متوقع ہے۔ رپورٹ کے مطابق برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کی قیمتوں میں ہفتہ وار بنیاد پر بالترتیب 6 فیصد اور 5.4 فیصد تک کا اضافہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
آئل مارکیٹ ماہرین کا انتباہ:
آئل مارکیٹ کے ماہرین نے غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ٹینکرز پر ہونے والے تازہ حملوں اور جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے ہفتے کے اختتام پر تیل کی قیمتوں میں تیزی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق جاری کشیدگی کی وجہ سے سپلائی کی صورتحال پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
تیل کی منڈی سے وابستہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت پر پابندیاں اسی طرح برقرار رہیں یا یہ آمدورفت محدود رہی تو آنے والے دنوں میں یہ صورتحال ایک بہت بڑے بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔




