ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے برطانیہ کو انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر برطانیہ، امریکا کی جانب سے ایران کیخلاف کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی میں عملی تعاون فراہم کرتا ہے تو ایسے تمام برطانوی فوجی اڈے، تنصیبات، جو اس مقصد کیلئے استعمال ہوں، ایران کی مسلح افواج کیلئے جائز عسکری اہداف تصور کیےجائینگے۔
پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان جنرل حسین محبی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اپنی قومی سلامتی کے خلاف کسی بھی اقدام کو برداشت نہیں کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکا ایران کے خلاف فوجی آپریشن کرتا ہے اور اس میں برطانیہ اپنی سرزمین، فوجی اڈوں یا دیگر دفاعی سہولیات کے ذریعے تعاون فراہم کرتا ہے تو ایران ان تنصیبات کو براہِ راست نشانہ بنانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور کسی بھی جارحیت کا مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ایران کیخلاف امریکی بحری ناکہ بندی تاحال مکمل طور پر نافذ ہے، سینٹ کام
مختلف سفارتی اور عسکری پیش رفت کے باعث خطے کی صورتحال مزید حساس ہوتی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق برطانیہ نے امریکی افواج کو اپنے بعض فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی ہے، جس کے بعد ایران کی جانب سے یہ سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔
دوسری جانب برطانوی حکومت نے ایران کے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ کی مسلح افواج ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں۔
برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی سلامتی، قومی مفادات اور اپنے اتحادیوں کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔
ادھر مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر امریکا، ایران اور ان کے اتحادیوں کی سفارتی و عسکری سرگرمیوں میں بھی تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:صدر ٹرمپ کا امریکی افواج کو ایران پر ایک دن کیلئے حملے روکنے کا حکم
عالمی برادری نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، کشیدگی میں مزید اضافے سے گریز کریں اور تنازعات کے حل کیلئےسفارتی ذرائع کو ترجیح دیں تاکہ خطے میں امن و استحکام برقرار رکھا جا سکے اور کسی بڑے تصادم سے بچا جا سکے۔




