وزیرِ اعظم شہباز شریف چار روزہ سرکاری دورے پر چین روانہ

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ اپنے چار روزہ اہم اور سرکاری دورے پر چین روانہ ہو گئے ہیں۔

وزیراعظم آفس سے جاری کردہ بیان کے مطابق، وزیرِ اعظم اپنے اس سفارتی دورے کے پہلے مرحلے میں چین کے معروف کاروباری و صنعتی شہر ہانگژو پہنچیں گے۔

تفصیلات کے مطابق وزیرِ اعظم کے اس سٹرٹیجک دورہ چین میں ان کے ہمراہ ایک مضبوط حکومتی ٹیم موجود ہے۔ وفد میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال، وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیرِ آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ اور وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی طارق فاطمی شامل ہیں، جو مختلف شعبوں میں چینی حکام کے ساتھ تکنیکی سطح پر بات چیت کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ایرانی وزیر خارجہ کے درمیان رات دیر تک حساس معاملات پر مذاکرات

اپنے دورے کے پہلے مرحلے میں ہانگژو پہنچنے پر وزیرِ اعظم شہباز شریف ژجیانگ صوبے کے پارٹی سیکریٹری سے اہم ملاقات کریں گے۔ اس کے علاوہ، وہ سی پیک (CPEC) فیز 2 کے تحت پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے مابین تجارتی و صنعتی تعاون کے فروغ کے لیے منعقدہ خصوصی بزنس فورم میں شرکت کریں گے۔ اس فورم کے دوران دونوں ممالک کی کمپنیوں کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) کے تبادلے کی تقریب بھی منعقد ہوگی۔

ہانگژو میں قیام کے دوران وزیرِ اعظم کی چین کی معروف اور عالمی سطح کی بڑی کمپنیوں کے سی ای اوز (CEOs) سے براہِ راست ملاقاتیں بھی شیڈول کا حصہ ہیں۔ وہ مشہور چینی ٹیکنالوجی کمپنی ’علی بابا‘ کے ہیڈکوارٹر کا دورہ کریں گے اور اس کے ساتھ ساتھ چائنہ اکیڈمی آف ایگری کلچر سائنسز کا بھی معائنہ کریں گے۔ ہانگژو کی مصروفیات مکمل کرنے کے بعد وزیرِ اعظم اپنے دورے کے دوسرے مرحلے کے لیے دارالحکومت بیجنگ روانہ ہوں گے۔

مزید پڑھیں: شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات ، دو طرفہ تجارتی فروغ پر تفصیلی گفتگو

بیجنگ پہنچنے پر وزیرِ اعظم شہباز شریف کی چین کے صدر شی جنپنگ اور چینی وزیرِ اعظم لی چیانگ سے انتہائی اہم دوطرفہ ملاقاتیں ہوں گی، جن میں علاقائی سلامتی اور معاشی تعاون پر بات چیت کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی، وہ پاک چین سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ کے حوالے سے منعقدہ ایک خصوصی تقریب میں بھی شرکت کریں گے۔ مبصرین کے مطابق، وزیرِ اعظم کا یہ دورہ پاک چین تعلقات میں نئی جہتوں کا اضافہ کرے گا، جس میں بالخصوص سی پیک فیز 2 کے تحت پاکستان اور چینی کمپنیوں کے مابین مشترکہ سرمایہ کاری اور تعاون کو فروغ دینا شامل ہے۔