دنیا کے سب سے معمر ترین پریکٹس کرنے والے امریکی ڈاکٹر اور معروف نیورولوجسٹ، جنہوں نے 103 سال کی طویل اور بھرپور زندگی گزاری، نے موت سے قبل انسانیت کے لیے لمبی اور خوشحال زندگی کے 3 سنہری اور سادہ اصول شیئر کیے تھے۔ دسمبر 2025 میں وفات پانے والے اس مایہ ناز معالج کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی درج تھا۔
ڈاکٹر نے اپنے ایک مضمون میں تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا تھا کہ لمبی عمر پانے کے لیے جہاں اچھے جینز (genes) اور خوش قسمتی اہم ہوتی ہے، وہیں انسان کی روزمرہ کی عادات اور اس کی سوچ سب سے زیادہ اثر انداز ہوتی ہیں۔ انہوں نے عمر بڑھنے کے باوجود خود کو صحت مند رکھنے کے لیے تین ایسے بنیادی ستون بتائے جن پر عمل کر کے کوئی بھی شخص ایک متوازن اور پرسکون زندگی گزار سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فوڈ اتھارٹی کا کریک ڈائون، غیر معیاری شہد،ونیگر کی بڑی کھیپ برآمد
ان کا پہلا اور سب سے اہم اصول دماغ کو مسلسل متحرک اور مصروف رکھنا تھا۔ ان کا مضبوط ماننا تھا کہ انسانی دماغ ایک مسل (muscle) کی طرح ہے، جسے اگر استعمال نہ کیا جائے تو یہ وقت کے ساتھ انتہائی کمزور ہو جاتا ہے۔ اسی فلسفے کے تحت انہوں نے خود 60 سال کی عمر میں قانون کی پڑھائی شروع کی اور 67 سال کی عمر میں بار کا امتحان پاس کیا۔ ان کے مطابق ذہنی طور پر متحرک رہنے کے لیے نوکری کرنا لازمی نہیں، بلکہ مطالعہ کرنا، فلاحی کاموں میں حصہ لینا، کوئی نیا ہنر یا ساز سیکھنا بھی انسانی دماغ کو بوڑھا ہونے سے روکتا ہے اور یادداشت کو تیز رکھتا ہے۔
نیورولوجسٹ کا بتایا ہوا دوسرا اہم اصول دل میں کسی بھی شخص کے لیے نفرت، کینہ یا غصہ نہ رکھنا تھا۔ ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ دائمی غصہ اور اندرونی تلخی انسان کو اندر سے کھا جاتی ہے، جس کے نتیجے میں ذہنی تناؤ (stress) بڑھتا ہے، بلڈ پریشر تیز ہوتا ہے اور دل کی صحت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی کی زیادتی کو بھولنا یا معاف کرنا ایک الگ بات ہے، لیکن اپنے اندر تلخی کو کبھی جگہ نہ دیں اور اپنی تمام تر توانائی کو زندگی کے مثبت پہلوؤں اور اچھے لوگوں کے ساتھ وقت گزارنے پر مرکوز کریں۔
مزید پڑھیں: تربوز خریدتے وقت کن باتوں کا خیال رکھیں؟ ماہرِ غذائیت نے افواہوں کی حقیقت واضح کر دی
تیسرا اور آخری اصول ہر کام میں اعتدال پسندی اختیار کرنا تھا۔ وہ کسی بھی قسم کے سخت اور کٹھن ڈائٹ پلان کے بجائے ایک متوازن طرزِ زندگی پر یقین رکھتے تھے، جس میں اچھی اور من پسند خوراک کے ساتھ ساتھ ہری سبزیوں اور سلاد کا استعمال لازمی شامل تھا۔ ان کا فلسفہ تھا کہ کسی بھی چیز کی زیادتی یا حد سے زیادہ کمی انسان کو وقت سے پہلے بوڑھا اور بیمار کر دیتی ہے، اس لیے زندگی کی تمام نعمتوں سے لطف اندوز ضرور ہوں مگر اعتدال کا دامن کبھی ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔




