پاکستان سمیت دنیا بھر کے مختلف ممالک میں آج ماؤں سے محبت کے اظہار کا عالمی دن “مدر ڈے” بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد اس عظیم، مقدس اور بے غرض رشتے کی اہمیت کا احساس اجاگر کرنا اور ماؤں کی لازوال عظمت کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے۔
ماں وہ عظیم ہستی ہے جو اپنی اولاد کی خاطر دن رات ایک کر دیتی ہے اور زندگی کے تمام دکھوں اور مصیبتوں کو اپنے آنچل میں چھپا لیتی ہے۔ وہ اپنی اولاد کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیرنے کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار رہتی ہے۔ ماں کا دل ہمیشہ اپنے بچوں کے لیے دھڑکتا ہے اور دنیا کا ہر رشتہ ساتھ چھوڑ دے، تب بھی ماں آخری دم تک اپنی اولاد کی فکر نہیں چھوڑتی۔
یہ بھی پڑھیں: معرکہ حق “بنیانِ مرصوص” کی پہلی سالگرہ: آزاد کشمیر میں یومِ تجدیدِ وفا اور جشنِ فتح کی پروقار تقریبات
عالمی دن کا پس منظر اور تاریخ:
ماؤں کا عالمی دن پہلی بار 1911ء میں امریکہ کی ایک ریاست میں منایا گیا تھا۔ عالمی سطح پر یہ دن منانے کے لیے مختلف ممالک میں الگ الگ ایام مختص ہیں، تاہم پاکستان، اٹلی اور کئی دیگر ممالک میں یہ دن ہر سال مئی کے دوسرے اتوار کو منایا جاتا ہے۔ اگرچہ ماں کی محبت کسی ایک دن کی محتاج نہیں اور ہر دن ہی ماں کا دن ہے، لیکن اس مخصوص دن کا مقصد اجتماعی طور پر ان کی خدمات کو سراہنا ہے۔
ورکنگ مدرز اور معاشرتی چیلنجز:
آج کے دور میں بہت سی مائیں ایسی بھی ہیں جو مشکلات کو چیلنج سمجھ کر قبول کرتی ہیں اور اپنے بچوں کے بہتر مستقبل، تعلیم اور تربیت کے لیے نہ صرف گھر کی ذمہ داریاں سنبھالتی ہیں بلکہ بچوں کے باپ کے شانہ بشانہ پیشہ ورانہ محنت بھی کرتی ہیں۔ تمام تر مخالفتوں اور چیلنجز کے باوجود ایک ماں اپنے بچوں کو بہترین زندگی دینے کے لیے ہر دم کوشاں رہتی ہے۔
اولڈ ہومز اور لمحہ فکریہ:
جہاں آج کا دن محبتوں کے اظہار کا ہے، وہیں یہ ایک تلخ حقیقت بھی ہے کہ پاکستان میں اولڈ ہومز کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اپنے بچوں کو پالنے کے لیے زندگی بھر دکھ سہنے والی مائیں آج اولڈ ہومز میں کرب سے گزر رہی ہیں، جو کہ معاشرے کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔




