اسلام آباد: کینیڈا جانے کے خواہشمند افراد کے لیے اہم خبر سامنے آئی ہے جہاں حکومت نے اپنی امیگریشن پالیسی میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کر دیا ہے۔
اسلام آباد میں بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نے اس حوالے سے آگاہی مہم کا آغاز بھی کر دیا ہے تاکہ شہریوں کو باخبر رکھا جا سکے۔
حکام کی جانب سے شہریوں کو خبردار کیا جا رہا ہے کہ وہ نئی پالیسی کو مکمل طور پر سمجھ کر ہی اپنی درخواستیں دیں۔ کسی بھی قسم کی غلط معلومات فراہم کرنا یا درخواست جمع کروانے میں تاخیر کرنا شہریوں کے لیے بڑی مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی وژن 2030: پاکستانی ماہرین اور ہنرمندوں کے لیے روزگار کے نئے اور وسیع مواقع
سرکاری بیان کے مطابق نئی پالیسی کے تحت پناہ گزینوں اور اسائلم کے کیسز سے متعلق قوانین کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بعض مخصوص ممالک کے شہریوں کے لیے درخواست دینے کا عمل بھی محدود کر دیا گیا ہے۔ پالیسی میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص کینیڈا میں موجود ہو اور وہ وقت پر اپنی درخواست جمع نہ کروا سکے تو اس کی درخواست مسترد ہو سکتی ہے، جس کے بعد ایسے افراد کو قانونی مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
حکام نے مزید بتایا ہے کہ اب وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے جس سے سیکیورٹی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ حکومت کو اب یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ وہ قومی مفاد یا سیکیورٹی کی بنیاد پر کسی بھی درخواست کو روک سکے یا اسے منسوخ کر سکے۔
مزید پڑھیں: گھر والے شادی نہیں کروا رہے، انڈین خاتون تھانے پہنچ گئی
مزید برآں، اگر کوئی درخواست گزار کینیڈا سے باہر موجود ہو تو اس کی پناہ کی درخواست پر عام طور پر کارروائی نہیں کی جائے گی۔ پالیسی کے مطابق اگر کوئی شخص خود واپس اس ملک چلا جاتا ہے جہاں اس نے اپنی جان کو خطرہ بتایا تھا، تو اس کی درخواست ختم سمجھی جائے گی۔ حکام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگر درخواست گزار مطلوبہ دستاویزات فراہم کرنے میں ناکام رہتا ہے یا انٹرویو میں شریک نہیں ہوتا، تو ایسی صورت میں اس کی درخواست واپس لی جا سکتی ہے۔




