ترجمان وزیراعظم آزاد کشمیر اور پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات شوکت جاوید میر نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے حالیہ بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے انہیں “ذہنی اختراع” قرار دیا ہے اور ان سے فوری معافی کا مطالبہ کیا ہے۔
شوکت جاوید میر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کی جانب سے راستوں کی بندش اور جلسہ گاہ میں پانی چھوڑنے جیسے الزامات دراصل اپنی پے در پے ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کا ایک بہانہ ہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ کے پی کو خبردار کیا کہ وہ تمام حدیں عبور کر کے پاکستانی اور کشمیری عوام کے درمیان نفرتوں کے بیج بونے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں، جسے کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
ترجمان حکومت نے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کی چار ماہ کی کارکردگی کو تحریک انصاف کے تینوں سابق وزرائے اعظم کے دور سے بہتر اور مثالی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ضلع کوٹلی کے حالیہ دورے کے دوران وزیراعظم کا تاریخی استقبال اس بات کی گواہی ہے کہ عوام حکومت کی کارکردگی سے مطمئن ہیں اور آنے والے انتخابات میں پیپلز پارٹی کلین سویپ کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ کے پی کا بیان کشمیریوں کے مینڈیٹ پر حملہ ہے، حکومت آزاد کشمیر کا سخت ردعمل
شوکت جاوید میر نے تحریک انصاف کی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام ایک کروڑ نوکریوں، پچاس لاکھ مکانات اور گورنر ہاؤسز کو تعلیمی ادارے بنانے جیسے جھوٹے وعدوں کو نہیں بھولے۔ انہوں نے 9 مئی کے واقعات، افواجِ پاکستان کی کردار کشی، 60 ارب روپے کے مالیاتی سکینڈل، فرح گوگی کی مبینہ کمیشن خوری اور توشہ خانہ کیس کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف “بھان متی کا کنبہ” ہے جس کا انجام عبرتناک ہوگا۔
ایک سوال کے جواب میں ترجمان وزیراعظم نے سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا یا کسی بھی پی ٹی آئی شخصیت نے وزیراعظم پاکستان یا وزیراعظم آزاد کشمیر کے خلاف غیر شائستہ اور بازاری زبان استعمال کی، تو حکومت ان کے آزاد کشمیر میں داخلے پر پابندی عائد کرنے کا قانونی حق استعمال کر سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آزاد کشمیر کے عوام صدرِ پاکستان آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں نفاق پھیلانے والی ہر قوت کو ملیا میٹ کر دیں گے۔




