واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے نمائندے ایران سے مذاکرات کے لیے کل اسلام آباد جارہے ہیں ۔
انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹروتھ سوشل پر اپنے پیغام میں کہا کہ ان کے نمائندے ایران سے بات چیت کے لیے کل شام تک اسلام آباد پہنچ جائیں گے۔
ٹرمپ کے مطابق امریکا نے ایران کو ایک ’’بہت اچھی ڈیل ‘‘ کی پیشکش کی ہے اور انہیں امید ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک امن معاہدہ طے پا سکتا ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ کسی نہ کسی صورت میں معاہدہ کرے گا، چاہے وہ دوستانہ طریقے سے ہو یا سخت مؤقف کے ذریعے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کی ایرانی تہذیب مٹانے کی دھمکی، ایرانی سفارت خانے کا فنِ تعمیر کے شاہکاروں سے کرارا جواب
انہوں نے دعویٰ کیا کہ دونوں فریق ایک معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، تاہم ساتھ ہی یہ دھمکی بھی دی کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو ایران کے اہم انفراسٹرکچر، بشمول بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورت میں ایران کیساتھ کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائیگی ۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ایران کے ساتھ طویل عرصے سے جاری کشیدگی کا خاتمہ کیا جائے، اور امید ظاہر کی کہ تہران امریکی تجاویز کو قبول کرے گا ۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ڈیل نہ ہوئی تو ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے، اور امریکا وہ اقدامات کرے گا جو گزشتہ 47 برسوں میں کسی امریکی صدر نے نہیں کیے ۔
اپنے بیان میں انہوں نے ایران پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا اور دعویٰ کیا کہ ایرانی فورسز نے آبنائے ہرمز میں فرانسیسی اور برطانوی جہازوں کو نشانہ بنایا ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:واشنگٹن ،ٹرمپ کی زیر صدارت ایران کی صورتحال پر سچویشن روم میں اہم اجلاس
ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے ایران کو روزانہ کروڑوں ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، جسے انہوں نے ایران پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی علامت قرار دیا ۔




