ہٹیاں بالا (کشمیر ڈیجیٹل)آزادکشمیر کے ضلع ہٹیاں بالامیں جرائم پیشہ عناصر کی طرف مخالف فریق کو بلیک میل کرکے مقدمہ سے جان چھڑوانے کیلئے زبردستی نازیبا ویڈیو بنانے اور سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے سنگین سکینڈل کا انکشاف ہوا ہے ۔
متاثرہ نوجوان اور اس کے والد نے حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے واقعہ سے متعلق اہم انکشافات کر دیئے ہیں۔متاثرہ نوجوان اور اس کے والد نے حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے واقعہ سے متعلق اہم انکشافات کر دیئے ہیں ۔
تفصیلات کے مطابق قاضی آباد کے رہائشی محمد صدیق ولد حبیب اللہ، سانول صدیق اور قدیر احمد نے ڈسٹرکٹ پریس کلب ہٹیاں بالا میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ 7 اپریل 2026 کو چند افراد (جن میں وقار شاہ، نومی شاہ، شہنشاہ، عادل شاہ اور علی رضا شامل ہیں) نے مبینہ طور پر سانول صدیق کو روڈ پر بلا کر ایک منصوبہ بندی کے تحت ویران مقام پر لے گئے ۔
پریس کانفرنس میں محمد صدیق نے بتایا کہ مبینہ طور پر ملزمان نے سانول صدیق پر دباؤ ڈالا کہ وہ ریاض شاہ کو فون کر کے جھوٹی اطلاع دے کہ اس کے پانی کے پائپ اکھاڑ دیے گئے ہیں ۔
متاثرہ فریق کے مطابق جب سانول صدیق نے اس مطالبے سے انکار کیا تو مبینہ طور پر اسے رقم کی پیشکش کی گئی اور انکار کے بعد اسلحہ کے زور پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں، حتیٰ کہ پستول کان پر رکھ کر خوف و ہراس پھیلایا گیا ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مظفرآباد پولیس کی اغواء، ڈکیتی اور بلیک میلنگ میں ملوث منظم گینگ کیخلاف کامیاب کاروائی
بیان کے مطابق بعد ازاں مبینہ طور پر سانول صدیق کو مجبور کر کے ریاض شاہ کو موقع پر بلایا گیا، اور دونوں افراد کو ایک خالی مکان میں لے جا کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور غیر اخلاقی دباؤ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔
متاثرہ خاندان نے واضح کیا کہ اس تمام صورتحال میں کسی بھی قسم کی رضامندی شامل نہیں تھی بلکہ یہ عمل مبینہ طور پر زبردستی اور دباؤ پر مبنی تھا ۔
مزید بتایا گیا کہ اسی دوران دو افراد کے موقع پر پہنچنے پر مبینہ ملزمان فرار ہو گئے۔ بعد ازاں سانول صدیق کو سڑک پر بھیج دیا گیا جبکہ ریاض شاہ کو وہیں چھوڑ دیا گیا، جنہیں بعد میں ان کے اہلخانہ موقع پر پہنچ کر واپس لے گئے ۔
متاثرہ فریق نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ واقعے کے بعد مبینہ طور پر کچھ ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل کی گئیں جس کے باعث ان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا اور خاندان کو بدنامی کا سامنا کرنا پڑا۔ مزید یہ بھی کہا گیا کہ بعض افراد سوشل میڈیا پر نامناسب تبصروں کے ذریعے ہراسانی کر رہے ہیں ۔
متاثرہ خاندان نے وزیراعظم آزاد کشمیر، آئی جی پولیس آزاد کشمیر، ڈپٹی کمشنر جہلم ویلی اور ایس پی جہلم ویلی سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پولیس کا بااثر ملزم سے گٹھ جوڑ،حوا کی بیٹی3سال سے بلیک میلنگ کا شکار
نامزد افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، وائرل ویڈیوز کو ہٹایا جائے اور متاثرہ خاندان کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ انہیں انصاف مل سکے ۔




