مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل) قائم مقام صدر ریاست آزاد جموں و کشمیر چوہدری لطیف اکبر نے یومِ دستور پاکستان کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ آئینِ پاکستان ملک کی وحدت، خودمختاری اور جمہوری استحکام کی بنیادی ضمانت ہے، اور یہی دستاویز ریاست کے تمام اداروں اور عوام کے درمیان ربط اور ہم آہنگی کا ذریعہ ہے ۔
انہوں نے کہا کہ یومِ دستور ہمیں اس عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم آئین کی بالادستی کو یقینی بنائیں، قانون کی حکمرانی کے اصولوں پر سختی سے عمل کریں اور جمہوری اقدار کے فروغ کیلئے اپنی تمام تر ذمہ داریاں پوری کریں ۔
ان کے مطابق کسی بھی مہذب اور مضبوط ریاست کی بنیاد آئین کی پاسداری اور اداروں کے باہمی توازن پر قائم ہوتی ہے، اور پاکستان کا آئین اسی اصول کی روشن مثال ہے ۔
چوہدری لطیف اکبر نے 1973 کے آئین کو پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم اور فیصلہ کن سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ آئین اُس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو شہید کی مدبرانہ اور دور اندیش قیادت کا نتیجہ ہے، جس نے ملک کو ایک متفقہ آئینی ڈھانچہ فراہم کیا ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سپیکر چوہدری لطیف اکبر کا انتخاب چیلنج کرنے کا فیصلہ، مقبول گجر نے بڑا دعویٰ کردیا
انہوں نے کہا کہ یہ دستاویز وفاقی اکائیوں کے درمیان توازن، عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور جمہوری نظام کے استحکام کی مکمل ضمانت فراہم کرتی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ آئینِ پاکستان نے نہ صرف شہریوں کو بنیادی حقوق دیے بلکہ صوبائی خودمختاری اور وفاقی اکائیوں کے درمیان اعتماد کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے ۔
یہ آئین پاکستان کی جمہوری تاریخ میں ایک ایسا سنگ میل ہے جس نے ریاستی ڈھانچے کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا ۔
قائم مقام صدر آزاد کشمیر نے ذوالفقار علی بھٹو شہید کی سیاسی و عوامی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عوامی حقوق، جمہوریت کے استحکام اور ریاستی خودمختاری کیلئے جو جدوجہد کی، وہ پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:قائدایون کا انتخاب قیادت کی صوابدید، کارکن رائے زنی سے اجتناب کریں ، چوہدری لطیف اکبر
انہوں نے مزیدکہا کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن، استحکام اور باہمی احترام کی پالیسی کو فروغ دیا ہے اور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا ۔




