واشنگٹن: امریکی خلائی ادارے (ناسا) کا تاریخی مشن ‘آرٹیمس ٹو’ کامیابی کے ساتھ اپنا سفر مکمل کرنے کے بعد زمین پر واپس پہنچ گیا ہے۔ چار ارکان پر مشتمل یہ کریو چاند کا چکر لگانے کے بعد گزشتہ روز بحرالکاہل میں بخیریت اتر گیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق، اس مشن نے خلا میں 10 دن گزارے، جس کے ساتھ ہی نصف صدی سے زائد عرصے کے بعد اس خلائی حصے میں انسان کی رسائی ممکن ہوئی۔ خلابازوں کو لے جانے والا کیپسول امریکی وقت کے مطابق شام پانچ بجے کے قریب جنوبی کیلیفورنیا کے سمندر میں پیراشوٹوں کی مدد سے اترا۔ اس سفر کے دوران خلابازوں نے ان مقامات کا مشاہدہ بھی کیا جہاں آج تک انسانی رسائی نہیں ہوئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: چاند کے گرد چکر مکمل: ناسا نے آرٹیمس ٹو مشن کی جانب سے زمین اور سورج گرہن کی پہلی تصاویر جاری کر دیں
رپورٹ کے مطابق، آرٹیمس ٹو فلائٹ نے مجموعی طور پر 6 لاکھ 94 ہزار 392 میل (تقریباً 11 لاکھ 17 ہزار کلومیٹر) کا طویل سفر طے کیا۔ ناسا کے اس مشن کا بنیادی مقصد 2028 تک خلابازوں کو ایک بار پھر چاند کی سطح پر اتارنا ہے۔ ناسا کے مبصرین نے کیپسول کی سمندر میں لینڈنگ کو ’بُلز آئی سپلیش ڈاؤن‘ قرار دیا، جو غروبِ آفتاب سے دو گھنٹے قبل ابر آلود آسمان تلے انجام پایا۔ واپسی پر تمام خلابازوں کا طبی معائنہ کیا گیا اور ڈاکٹروں نے ان کی صحت کو تسلی بخش قرار دیا ہے۔
یاد رہے کہ یہ مشن یکم اپریل کو فلوریڈا کے کینیڈی سپیس سینٹر سے روانہ ہوا تھا، جہاں سے ماضی میں اپالو مشنز روانہ ہوئے تھے۔ تین امریکیوں اور ایک کینیڈین خلاباز پر مشتمل اس عملے کی قیادت کمانڈر ریڈ وائز مین نے کی، جبکہ ان کے ہمراہ پائلٹ وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور کینیڈا کے جیریمی ہینسن شامل تھے۔ اس کامیابی کو چاند پر انسانی بستی بسانے کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔




