پاکستان کی مثبت اور مؤثر سفارتکاری نے وہ تاریخی معرکہ سر انجام دے دیا ہے جسے عالمی سطح پر ناممکن تصور کیا جا رہا تھا۔ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، جس نے دنیا کو تیسری جنگ عظیم کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا، اسے پاکستان نے اپنی بہترین حکمتِ عملی سے مذاکرات میں بدل دیا ہے۔ آج اسلام آباد ان دو بڑے حریفوں کی میزبانی کر رہا ہے جس پر پوری دنیا کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف اور وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کی اسلام آباد آمد نے جہاں عالمی سطح پر پاکستان کے وقار میں اضافہ کیا ہے، وہیں پڑوسی ملک بھارت میں صفِ ماتم بچھ گئی ہے۔ بھارتی ‘گودی میڈیا’ جو کئی روز سے پاکستان کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا کر رہا تھا، اسے اس وقت شدید ہزیمت کا سامنا ہے جب اس کی پھیلائی ہوئی تمام جھوٹی خبریں دم توڑ گئیں۔ بھارتی میڈیا یہ دعوے کر رہا تھا کہ ایرانی وفد مذاکرات کا حصہ نہیں بنے گا اور امریکی نائب صدر کا طیارہ پاکستان نہیں پہنچے گا، مگر حقیقت نے ان تمام مضحکہ خیز دعووں کو غلط ثابت کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: مشرقِ وسطٰی میں امن کی نئی امید: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اعلیٰ سطح وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچ گئے
سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز بھی وائرل ہو رہی ہیں جہاں بین الاقوامی امور کے ماہرین اور سفارتکار براہِ راست بھارتی اینکرز کو آئینہ دکھا رہے ہیں۔ ایک حالیہ انٹرویو میں جب ایک بھارتی اینکر نے امریکی سفارتکار جیفری گنٹر سے جے ڈی وینس کی سکیورٹی کے حوالے سے سوال کیا، تو امریکی سفارتکار نے اسے کرارا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جے ڈی وینس پاکستان میں مکمل محفوظ ہوں گے۔ انہوں نے بھارتی اینکر کو ٹوکتے ہوئے کہا کہ یہ انسانیت، عالمی معیشت اور روزگار کا معاملہ ہے، لیکن آپ اسے پاکستان بھارت تنازع میں گھسیٹ رہے ہیں جو کہ شرمناک ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے دوران جہاں بھارت نے کھل کر اسرائیل کی حمایت کی، وہیں پاکستان نے پہلے دن سے سفارتی حل اور امن کا پرچم اٹھایا۔ آج جب پاکستان دنیا کے لیے مرکزِ نگاہ بنا ہوا ہے اور عالمی ذرائع ابلاغ پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کے گن گا رہے ہیں، تو بھارت کی بین الاقوامی تنہائی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ پاکستان کا پاسپورٹ اور پرچم آج جس عزت کے ساتھ عالمی دنیا میں نمایاں ہے، وہ بھارتی میڈیا اور انتہا پسند مودی حکومت کے لیے ناقابلِ ہضم بن چکا ہے۔




