ایک ایسی جگہ جہاں آپ بغیر ویزا جا سکتے ہیں لیکن وہاں مرنا قانونی طور پر منع ہے: حیران کن انکشاف

ناروے کا خوبصورت جزیرہ نما خطہ سوالبارڈ قطب شمالی کے قریب واقع ہے۔ اسے ریچھوں کی سرزمین کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں ریچھوں کی تعداد انسانوں سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ دنیا کی واحد جگہ ہے جہاں رہنے یا کام کرنے کے لیے کسی بھی غیرملکی کو ویزا لینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ دنیا کے انتہائی شمال میں واقع اس برفانی خطے نے اپنی منفرد خصوصیات کی وجہ سے ایک بار پھر عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔ یہ علاقہ ناروے کے زیرِ انتظام ہے اور آرکٹک سمندر میں تقریباً 800 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

سوالبارڈ دنیا کے ان چند مقامات میں سے ایک ہے جہاں کسی بھی ملک کا شہری بغیر ویزا رہائش اختیار کر سکتا ہے۔ یہ سہولت 1920 میں ہونے والے سوالبارڈ معاہدے کے تحت دی گئی تھی۔ تاہم یہاں قیام کے لیے ضروری ہے کہ فرد کے پاس رہائش اور روزگار موجود ہو۔

یہ بھی پڑھیں: ایپسٹین سکینڈل،برطانیہ اور ناروے کے 2اہم عہدیدار مستعفی ہو گئے

سوالبارڈ کے مرکزی شہر لانگ ایئر بائن میں تقریباً 2400 افراد رہائش پذیر ہیں لیکن یہاں 50 سے زائد قومیتوں کے لوگ آباد ہیں۔ اس خطے کی سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ یہاں ریچھوں کی تعداد انسانوں سے بہت زیادہ ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 2600 سے 3600 تک ریچھ اس علاقے میں موجود ہیں۔ اسی لیے شہر سے باہر نکلتے وقت اسلحہ ساتھ رکھنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔

جزیرے کا ایک اور حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ یہاں نہ تو بچوں کی پیدائش کی اجازت ہے اور نہ ہی تدفین کی۔ شدید سردی کی وجہ سے لاشیں گل سڑ نہیں پاتیں۔ اسی وجہ سے بیمار افراد اور حاملہ خواتین کو ناروے کے مرکزی علاقوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: حج 2026: عازمینِ حج کی پہلی پرواز 18 اپریل کو روانہ ہوگی، وفاقی وزیرکا اہم اعلان

اس کے علاوہ مقامی ماحول کے تحفظ کے لیے یہاں بلیاں پالنے پر بھی پابندی عائد ہے کیونکہ وہ مقامی پرندوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ اسی خطے میں سوالبارڈ گلوبل سیڈ والٹ بھی قائم ہے جہاں دنیا بھر کی فصلوں کے 9 لاکھ سے زائد بیج محفوظ کیے گئے ہیں۔ یہ بیج کسی عالمی بحران کی صورت میں زرعی نظام کو بحال کرنے کے لیے رکھے گئے ہیں۔ سوالبارڈ میں قدرت کا ایک اور عجیب منظر یہ ہے کہ یہاں سال کے تقریباً چھ ماہ مسلسل دن رہتا ہے جبکہ باقی چھ ماہ مکمل اندھیرا چھایا رہتا ہے۔

Scroll to Top