خالی جیب سے کروڑ پتی بننے تک کا سفر: چاند پر پلاٹ بیچنے والے امریکی شہری کی دلچسپ داستان

حالات جب انسان کو دیوار سے لگا دیں تو کبھی کبھی ناممکن نظر آنے والے خیالات ہی قسمت بدل دیتے ہیں۔ ذرا اس شخص کی جگہ خود کو رکھ کر دیکھیں جس کی ابھی ابھی طلاق ہوئی ہو اور جیب میں ایک پیسہ بھی نہ بچا ہو۔ مالی تنگی کے اس دور میں جب جائیداد بنانے کا خواب بھی ناممکن لگے، تو ڈینس ہوپ نامی شخص نے کچھ ایسا سوچا جس کا تصور بھی محال ہے۔ جب وہ اپنی محرومیوں کا حل تلاش کرنے کے لیے کھڑکی سے باہر آسمان کو دیکھ رہے تھے، تو اچانک ان کے ذہن میں ایک بجلی کی طرح کوندنے والا خیال آیا: ’میں چاند بیچ دوں گا!‘

بات کچھ ہضم نہیں ہو رہی؟ لیکن یہی وہ آئیڈیا تھا جس نے 1980 میں امریکی شہری ڈینس ہوپ کی زندگی بدل دی اور وہ چاند پر پلاٹ بیچ کر کروڑ پتی بن گئے۔ آئیے جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ یہ سب کرنے میں کیسے کامیاب ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: ایسی جنگ بندی چاہتے ہیں کہ دشمن دوبارہ حملہ نہ کر سکے، ایرانی وزیر خارجہ

’ایسی زمین جس کا کوئی مالک نہیں تھا‘

یہ خیال آنے کے بعد ڈینس نے معلومات اکٹھا کرنے کا فیصلہ کیا۔ کئی سال قبل خبر رساں ادارے وائس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے بتایا کہ وہ لائبریری گئے اور انھوں نے 1967 کی آؤٹر سپیس ٹریٹی نکالی۔

اقوامِ متحدہ کی اس دستاویز میں کیا لکھا ہے؟

اس بین الاقوامی معاہدے کے مطابق خلا تمام انسانیت کی مشترکہ ملکیت ہے، ’مجموعی انسانی ورثہ‘۔ اور کسی بھی ملک کو اجازت نہیں کہ وہ اس پر علاقائی خودمختاری کا دعویٰ کرے۔ اس معاہدے کے آرٹیکل 2 میں خاص طور پر لکھا ہے کہ چاند اور فلکی نظام میں موجود دیگر سیاروں اور ستاروں پر قبضہ کر کے یا کسی بھی دوسری طریقے سے ملکیت کا دعویٰ کرنے کی اجازت نہیں۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ کی دھمکیوں و ڈیڈلائن پر ایران کا بھی سخت ردعمل،دوٹوک جواب دیدیا

Scroll to Top