ایسی جنگ بندی چاہتے ہیں کہ دشمن دوبارہ حملہ نہ کر سکے، ایرانی وزیر خارجہ

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ جنگ ایسے انداز سے ختم کی جانی چاہیے کہ دشمن کبھی ایران پر دوبارہ حملہ نہ کر سکے۔ عباس عراقچی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ جب ایران کہتا ہے کہ وہ جنگ بندی نہیں چاہتا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم جنگ چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا اصل مطلب یہ ہے کہ جنگ ایسے ختم ہونی چاہیے کہ ایران پر دوبارہ حملہ نہ کیا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل اپنی جنگی مقاصد میں ناکامی کو چھپانے کے لیے اندھا دھند ٹارگٹ کلنگ کر رہے ہیں۔ اس قسم کی کارروائیاں ایرانی قوم کے حوصلے پست کرنے کے بجائے اس کے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔ ایرانی قوم مزاحمت کے راستے پر پہلے سے زیادہ ثابت قدمی کے ساتھ گامزن رہے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ دشمن کی جانب سے اس طرح کی کارروائیوں کا مقصد ایرانی قوم کے حوصلے پست کرنا ہے تاہم یہ کوششیں ناکام رہیں گی۔ ان کے بقول ایسے اقدامات ایرانی عوام کے عزم کو کمزور کرنے کے بجائے مزید مضبوط کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایران انتہائی اہم سمندری راستے آبنائے ہرمز کو کیسے کنٹرول کرتا ہے؟

ایرانی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ ایرانی قوم مزاحمت کے راستے پر پہلے سے زیادہ ثابت قدمی کے ساتھ گامزن رہے گی اور کسی بھی دباؤ کو قبول نہیں کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنے قومی مفادات اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گا۔ دوسری جانب ایک اسرائیلی عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اتوار کو ٹرمپ کو کال کر کے کہا کہ جنگ بندی نہ کریں۔ اسرائیلی عہدیدار نے کہا کہ نیتن یاہو نے ایسے کسی بھی اقدام پر خدشے کا اظہار کیا ہے۔

ٹرمپ نے نیتن یاہو سے کہا کہ اگر ایران نے امریکی شرائط مانی تو سیز فائر ہوگا۔ وہ اس مطالبے سے دستبردار نہیں ہوں گے کہ ایران افزودہ یورینیم حوالے کرے اور آئندہ افزودگی نہ کرنے کی یقین دہانی کرائے۔ ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ منگل کا دن ایران میں پاور پلانٹ اور برج ڈے ہوگا۔ دونوں ہی ایک ساتھ لپیٹ میں آئیں گے۔ انہوں نے وارننگ دی کہ آبنائے ہرمز کو کھولو ورنہ تم جہنم میں دھکیل دیے جاؤ گے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ کی دھمکیوں و ڈیڈلائن پر ایران کا بھی سخت ردعمل،دوٹوک جواب دیدیا

Scroll to Top