فری لانسرز کے لیے بڑی خوشخبری: جرمنی نے ’اسپیشل ویزا‘ پروگرام متعارف کرا دیا

برلن: جرمنی نے دنیا بھر کے فری لانسرز اور آزاد پیشہ ور افراد کے لیے ایک نیا اور آسان راستہ کھول دیا ہے۔ ’فری لانس ویزا‘ (Freiberufler Visum) کے نام سے متعارف کرائے گئے اس پروگرام کے تحت اب آئی ٹی ماہرین، ڈیزائنرز، لکھاری اور کنسلٹنٹس جرمنی میں رہ کر قانونی طور پر کام کر سکیں گے۔

کون سے شعبے شامل ہیں؟

یہ ویزا خاص طور پر ان لوگوں کے لیے ہے جو کسی کمپنی کے ملازم بننے کے بجائے آزادانہ کام کرنا چاہتے ہیں۔ اس میں سافٹ ویئر ڈویلپرز، گرافک اور یو ایکس (UX) ڈیزائنرز، فلم ساز، مارکیٹنگ کے ماہرین، صحافی، مترجم، اساتذہ اور ماہرِ نفسیات شامل ہیں۔ جرمن قانون کے مطابق ان کاموں کے لیے آپ کو کوئی باقاعدہ کمپنی کھولنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: حج 2026: عازمینِ حج کے لیے پاک حج ایپ پر میڈیکل فارم بھرنا لازمی قرار

ویزہ حاصل کرنے کی شرائط:

اس پروگرام کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ جرمنی مقامی ڈگری کو لازمی قرار نہیں دیتا۔ اگر آپ کے پاس ڈگری نہیں ہے لیکن ایک بہترین پورٹ فولیو (گزشتہ کام کا ریکارڈ) موجود ہے، تو اسے ڈگری کے برابر تسلیم کیا جائے گا۔ درخواست دہندگان کو صرف یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ان کی مہارت جرمنی کے لیے فائدہ مند ہے اور وہ فری لانسنگ سے اپنا خرچ اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

درخواست کا طریقہ اور فیس:

درخواست گزار کو اپنے پاسپورٹ، سی وی اور بینک اسٹیٹمنٹ کے ساتھ جرمن سفارت خانے میں رجوع کرنا ہوگا۔ اگر آپ کے پاس کسی جرمن کمپنی کے ساتھ کام کا معاہدہ یا ‘لیٹر آف انٹینٹ’ موجود ہے، تو ویزا ملنے کے امکانات بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔ اس ویزا کی فیس 75 یورو (تقریباً 22 ہزار روپے) ہے اور اس کا فیصلہ ہونے میں عام طور پر 6 سے 12 ہفتے لگتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ہائیر ایجوکیشن کمیشن کا ایک ہزار اسکالرشپس دینے کا اعلان

جرمنی پہنچنے کے بعد فری لانسرز کو اپنا مقامی پتہ رجسٹر کرانا ہوگا اور ٹیکس نمبر حاصل کرنے کے بعد وہ باقاعدہ طور پر اپنی خدمات کے بل (Invoices) جاری کر سکیں گے۔

Scroll to Top