امریکا

امریکا کی جانب سے 15نکاتی امن منصوبہ پاکستان کے ذریعے ایران کو بھیج دیا گیا ، نیو یارک ٹائمز

نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا نے ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ جنگ کے خاتمے کیلئے 15 نکاتی امن منصوبہ پیش کیا ہے ۔ اس سفارتی کوشش میں پاکستان، مصر اور ترکیہ کو ثالثی کا کردار دیا گیا ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھایا جا سکے ۔

رپورٹ کے مطابق امریکا نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر بند کرے اور نطنز، فردو اور اصفہان میں قائم جوہری تنصیبات کو ختم کرے ۔

اس کے علاوہ ایران سے کہا گیا ہے کہ وہ خطے میں اپنے اتحادی یا پراکسی گروپس کی مالی معاونت روک دے اور اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام کو بھی محدود یا ختم کرے ۔

امریکا نے آبنائے ہرمز کو عالمی تجارت کے لیے مکمل طور پر کھولنے اور وہاں ایک آزاد میری ٹائم زون کے قیام کی تجویز بھی دی ہے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:امریکا کیساتھ پس پردہ مذاکرات کرنے والے ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف کون ہیں؟

دوسری جانب ایران نے جنگ بندی کے لیے چھ نکاتی شرائط پیش کی ہیں۔ ان میں سب سے اہم شرط یہ ہے کہ مستقبل میں ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت نہ کرنے کی واضح ضمانت دی جائے ۔

ایران نے خطے میں امریکی فوجی اڈوں کے خاتمے اور جنگ کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کے ازالے کا بھی مطالبہ کیا ہے ۔

مزید برآں ایران نے تمام علاقائی محاذوں پر جنگ کے خاتمے، آبنائے ہرمز کیلئے نئے قانونی نظام کے نفاذ اور اپنے خلاف سرگرم میڈیا کے خلاف کارروائی کی شرط بھی رکھی ہے ۔

ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کے مطالبات ایک دوسرے سے خاصے مختلف اور متضاد ہیں، جس کی وجہ سے کسی حتمی معاہدے تک پہنچنا آسان نہیں ہوگا ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ نے ایران سے مذاکرات کا فیصلہ اچانک کیوں کیا؟امریکی میڈیا کا تہلکہ خیز انکشاف

تاہم ثالثی کی موجودہ کوششیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ فریقین کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے پر غور کر رہے ہیں ۔

Scroll to Top