پاکستان بھر میں آج 86واں یومِ پاکستان ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے ۔
دن کا آغاز وفاقی دارالحکومت میں 31 جبکہ صوبائی دارالحکومتوں میں 21 توپوں کی سلامی سے ہوا، جس کے ساتھ فضا نعرۂ تکبیر سے گونج اٹھی۔ ملک بھر کی مساجد میں نمازِ فجر کے بعد پاکستان کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں ۔
اس سال یومِ پاکستان سادگی سے منایا جا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور ملک میں کفایت شعاری مہم کے پیش نظر روایتی فوجی پریڈ کو منسوخ کر دیا گیا ہے جبکہ مرکزی پرچم کشائی کی تقریب کو بھی سادہ مگر باوقار انداز میں منعقد کیا گیا ۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر قوم کو دلی مبارکباد پیش کی ۔ اپنے پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ 23 مارچ 1940ء وہ تاریخی دن ہے ۔
جب برصغیر کے مسلمانوں نے قراردادِ پاکستان منظور کی اور ایک آزاد ریاست کے قیام کا واضح تصور پیش کیا، جہاں وہ اپنی مذہبی اور ثقافتی اقدار کے مطابق زندگی گزار سکیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:نہال ہاشمی گورنر سندھ تعینات، صدر آصف علی زرداری نے منظوری دیدی
انہوں نے کہا کہ آج کا دن ہمیں اپنے اسلاف کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے، جن کی جدوجہد کے نتیجے میں پاکستان وجود میں آیا ۔
صدر زرداری نے اس بات پر زور دیا کہ قومی اتحاد، محنت اور باہمی تعاون ہی وہ عناصر ہیں جن کی بدولت پاکستان نے مشکل حالات پر قابو پایا اور مختلف شعبوں میں ترقی حاصل کی ۔
انہوں نے ملک کی دفاعی صلاحیت، جوہری پروگرام اور دہشت گردی کے خلاف کامیاب اقدامات کو اہم کامیابیاں قرار دیا ۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ چیلنجز کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے اور آئندہ بھی قومی یکجہتی کے ذریعے ہر مشکل پر قابو پایا جائے گا ۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستانی قوم نے ہر آزمائش میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہے ۔
انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام کے لیے اقدامات جاری ہیں اور سکیورٹی کے میدان میں بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کی جا رہی ہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی: وزیراعظم شہباز شریف کا انڈونیشین صدر سے اہم ٹیلیفونک رابطہ
وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی کے خاتمے اور ملکی استحکام کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے، اور پاکستان کو ایک مضبوط اور خوشحال ریاست بنایا جائے گا ۔




