آبنائے ہرمز مکمل بند نہیں، صرف دشمن ممالک کے لیے راستہ روکا ہے، ایرانی وزیرِ خارجہ

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند نہیں ہے، بلکہ یہ صرف ان ممالک کے لیے بند کی گئی ہے جو ایران کے خلاف کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ جاپانی ٹی وی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے ایران کا سفارتی مؤقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ تہران کسی عارضی حل کے بجائے ایک مکمل، جامع اور دیرپا جنگ بندی کا خواہاں ہے۔

عباس عراقچی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران ایسی ہر تجویز کا خیر مقدم کرے گا جو جنگ کے مستقل خاتمے کا باعث بنے، تاہم انہوں نے شکوہ کیا کہ امریکہ فی الحال اپنی جارحیت روکنے کے لیے آمادہ نظر نہیں آتا۔ آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایک بڑی پیشکش کرتے ہوئے ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ایران جاپانی بحری جہازوں کو اس گزر گاہ سے گزرنے کے لیے محفوظ راستہ دینے کو تیار ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 48 گھنٹے کا الٹی میٹم، ٹرمپ کی بجلی گھر تباہ کرنے کی دھمکی

انہوں نے مزید کہا کہ جو ممالک ایران سے رابطہ کریں گے، انہیں محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا کیونکہ ایران بین الاقوامی بحری گزرگاہوں کو مکمل بند کرنے کے حق میں نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران پائیدار امن چاہتا ہے لیکن اپنی سیکیورٹی اور قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

مزید پڑھیں: ایران نے ڈیاگو گارسیا فوجی اڈے پر میزائل داغ دیئے

Scroll to Top