مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل) آزاد حکومت جموں کشمیر نے نیشنل پروگرام برائے فیملی پلاننگ اور پرائمری ہیلتھ کیئر( ایف پی اینڈ پی ایچ سی) کے ملازمین کی ریگولرائزیشن اور کنفرمیشن کیلئے واضح طریقہ کار کی منظوری د یدی ہے ۔
یہ منظوری حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے ( یکم جنوری 2013) اور عدالت عالیہ آزاد جموں و کشمیر کے فیصلے (27 فروری 2023) کے علاوہ متعلقہ ریگولرائزیشن نوٹیفکیشنز اور ایکٹ 2017 کی روشنی میں دی گئی ہے ۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق اس پالیسی کے تحت وہ تمام ملازمین جو یکم جولائی 2012 کو مذکورہ پروگرام میں خدمات انجام دے رہے تھے، انہیں قواعد و ضوابط کے مطابق ریگولرائز یا کنفرم کیا جائے گا ۔
اس اقدام کا مقصد پروگرام میں خدمات انجام دینے والے اہل اور تجربہ کار ملازمین کو مستقل اور مستحکم ملازمت فراہم کرنا اور صحت کے شعبے میں معیار کو بہتر بنانا ہے ۔
جاری کردہ طریقہ کار کے مطابق، گریڈ 16 اور 17 کی اسامیوں پر تعینات ملازمین کے کیسز سلیکشن بورڈ نمبر 3 میں پیش کیے جائیں گے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر بھر میں ہیلتھ ملازمین کا احتجاج، ہزاروں افراد کی شرکت
اس بورڈ میں سپیشل سیکرٹری صحت عامہ اور ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ قانون بطور اضافی ممبران شامل ہوں گے تاکہ تمام کیسز شفاف اور قانونی تقاضوں کے مطابق نمٹائے جائیں ۔
مزید کہا گیا ہے کہ ریگولرائزیشن کا عمل مرحلہ وار اور جامع ہوگا، جس میں ملازمین کے تجربے، خدمات اور اہلیت کو مدنظر رکھا جائے گا ۔
اس کے علاوہ، عمل مکمل ہونے کے بعد تمام اہل ملازمین کو مستقل نوکری کے حقوق فراہم کیے جائیں گے ۔
ماہرین صحت کے مطابق، ایف پی اینڈ پی ایچ سی کے ملازمین کی ریگولرائزیشن سے نہ صرف پروگرام کی کارکردگی میں اضافہ ہوگا بلکہ عوام کو معیاری صحت کی سہولیات بھی میسر آئیں گی ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر بھر میں چار روزہ انسداد پولیو مہم شروع،حکومت کی والدین سے تعاون کی اپیل
سرکاری ذرائع کے مطابق یہ اقدام صحت کے شعبے میں شفافیت، استعداد اور استحکام کو فروغ دینے کی طرف اہم قدم ہے ۔




