بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں کٹوتیوں اور کرپشن کے خاتمے کے لیے نیا سسٹم متعارف

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد نے پروگرام کے صارفین کے لیے بڑی خوشخبری سناتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اگلے سہ ماہی سے تمام ادائیگیاں نئے “ڈیجیٹل والٹ” سسٹم کے تحت کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پروگرام میں شفافیت لانے کے لیے پرانا ادائیگی کا نظام ختم کیا جا رہا ہے۔

رحیم یار خان واقعہ اور امدادی چیکوں کی تقسیم:

شیخ زیدہسپتال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرپرسن نے رحیم یار خان میں پیش آنے والے حالیہ افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا۔ اس موقع پر انہوں نے متاثرہ خاندانوں کی مالی امداد کے لیے جاں بحق خواتین کے لواحقین کو 10 لاکھ روپے اور زخمی خواتین کو 30 لاکھ روپے کے چیک تقسیم کیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ رحیم یار خان میں تقسیم کی گئی حالیہ قسط پرانے نظام کے تحت آخری ادائیگی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام 2026: رجسٹریشن کا طریقہ کار مزید آسان، مکمل گائیڈ جاری

شفافیت اور خواتین کا احترام:

سینیٹر روبینہ خالد نے زور دیا کہ اب سے رقم کی تقسیم کا طریقہ کار مکمل طور پر شفاف بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو رقم کی ادائیگی کے وقت ان کے وقار اور احترام کا خاص خیال رکھا جانا چاہیے اور انہیں طویل لائنوں یا کسی بھی نامناسب صورتحال سے بچانے کے لیے جدید بینکنگ سلوشنز متعارف کرائے جا رہے ہیں۔ ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے رقم براہِ راست مستحق خواتین کے اکاؤنٹس میں منتقل ہوگی جس سے کٹوتیوں اور کرپشن کا جڑ سے خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔

بی آئی ایس پی اسکیموں کے لیے آن لائن رجسٹریشن کا طریقہ:

حکومت نے رجسٹریشن کے عمل کو آسان بنانے کے لیے ایک آن لائن پورٹل متعارف کرایا ہے۔ شہری بی آئی ایس پی رجسٹریشن پورٹل پر جا کر اپنا شناختی کارڈ نمبر، خاندان کی تفصیلات اور رابطہ نمبر درج کر کے درخواست جمع کرا سکتے ہیں۔ اس سسٹم کے ذریعے درخواستوں کی تصدیق کا عمل کافی تیز اور موثر ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ، شہری اپنی اہلیت چیک کرنے کے لیے اپنا شناختی کارڈ نمبر 8171 پر ایس ایم ایس کر کے فوری معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔

رجسٹریشن کے لیے ضروری دستاویزات اور ادائیگی کا طریقہ:

درخواست کی منظوری کے لیے گھر کے سربراہ کا اصل شناختی کارڈ، رہائش کا ثبوت (بجلی کا بل یا کرایہ نامہ)، آمدنی کی تفصیلات اور گھر کے افراد کی تعداد فراہم کرنا لازمی ہے۔ ایک بار رجسٹریشن مکمل ہو جانے کے بعد، مالی امداد براہِ راست مقامی بینکوں یا موبائل منی سروسز جیسے جیز کیش اور ایزی پیسہ کے ذریعے حاصل کی جا سکے گی۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ دھوکہ دہی سے بچنے کے لیے درخواستیں صرف سرکاری ذرائع سے جمع کرائیں اور اپنا رجسٹریشن نمبر محفوظ رکھیں۔

Scroll to Top