افغان میڈیا کاجائے وقوعہ کا دورہ،مقامی صحافیوں کو نہ خون کے نشان ملے نہ جانی نقصان کا ثبوت

کابل کے وسط میں واقع بحالی مرکز پر حملے سے متعلق افغان طالبان کے سرکاری دعووں کی حقیقت خود افغان میڈیا کی تحقیقات کے بعد مشکوک ہو گئی ہے۔ مقامی صحافیوں کے جائے وقوعہ کے دورے، عینی شاہدین کے بیانات اور “زویہ نیوز” سمیت دیگر آزاد ذرائع کی رپورٹس میں ہسپتال پر حملے یا کسی بڑے جانی نقصان کے کوئی شواہد نہیں ملے، جس سے طالبان کا منظم پروپیگنڈا بے نقاب ہو گیا ہے۔

افغان طالبان کی جانب سے مقامی اور بین الاقوامی صحافیوں کو اس مقام تک رسائی فراہم کی گئی جہاں مبینہ حملے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ میڈیا ٹیموں نے جائے وقوعہ پر پہنچنے اور معائنے کے لیے رات بھر انتظار کیا، جس کے بعد انہیں متاثرہ علاقے کا دورہ کروایا گیا۔ تاہم، اس تفصیلی معائنے کے دوران صحافیوں کو ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جو کسی بڑے جانی نقصان یا ہسپتال کی عمارت پر براہِ راست حملے کی نشاندہی کرتے ہوں۔ جائے وقوعہ پر نہ تو خون کے نشانات پائے گئے اور نہ ہی ایمبولینسوں یا زخمیوں کی وہ ہنگامی صورتحال دیکھی گئی جس کا دعویٰ کیا جا رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: افغان سیکیورٹی گارڈ نے بھانڈا پھوڑ دیا: ہسپتال پر حملے کے بھارتی اور افغان پروپیگنڈے کا پول کھل گیا

مقامی اور علاقائی میڈیا اداروں، جن میں “زویہ نیوز” اور “افغان ٹائمز” نمایاں ہیں، نے بھی اپنی رپورٹوں میں اب تک کسی بھی قسم کے جانی نقصان کی تصدیق نہیں کی ہے۔ عینی شاہدین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اصل دھماکہ اس مقام سے کچھ فاصلے پر ہوا تھا جہاں ہسپتال واقع ہے، جبکہ ہسپتال کی عمارت مکمل طور پر محفوظ رہی۔ موقع پر موجود صحافیوں کے مطابق، وہاں صرف معمولی نوعیت کا ساختی نقصان اور آگ لگنے کے اثرات دیکھے گئے، جو کسی بڑے فضائی حملے یا میزائل گرنے کی صورت میں ہونے والی تباہی سے مطابقت نہیں رکھتے۔ مقامی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ نقصان صرف ایک محدود جگہ تک رہا جہاں آگ بھڑکی تھی، جبکہ ارد گرد کا پورا رہائشی علاقہ بالکل محفوظ اور معمول کے مطابق رہا۔

صحافیوں کے اس دورے کے دوران وہاں کسی بھی زخمی فرد کی موجودگی رپورٹ نہیں ہوئی، جو کہ طالبان کے مبالغہ آمیز دعوؤں کی مکمل نفی کرتا ہے۔ بعض آزاد ذرائع اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بحالی مرکز کے قریب آگ لگنے کا یہ واقعہ ممکنہ طور پر اس وقت پیش آیا جب قریب ہی واقع ایک عسکری کیمپ “کیمپ فینکس” کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس عسکری کیمپ میں موجود اسلحہ اور بارود کے ذخیرے میں ہونے والے دھماکوں کے نتیجے میں آگ کے شعلے بلند ہوئے اور دھواں دور دور تک دیکھا گیا، جسے پروپیگنڈے کے طور پر ہسپتال پر حملے کا رنگ دیا گیا۔ مجموعی طور پر زمینی حقائق اور افغان میڈیا کی اپنی رپورٹس اس بات کی تائید نہیں کرتیں کہ حملہ ہسپتال پر ہوا ہے، بلکہ تمام شواہد ایک ناکام بیانیے کی نشاندہی کر رہے ہیں۔

Scroll to Top