بحالی مرکز کی آڑ میں خودکش حملوں کی تربیت؟انٹیلی جنس رپورٹس نے طالبان رجیم کا گھناؤنا چہرہ بے نقاب کر دیا

افغانستان میں انسانی ہمدردی اور منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے نام پر قائم مراکز کے حوالے سے سنسنی خیز اور چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔

تازہ ترین انٹیلی جنس رپورٹس نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان حکومت ان مراکز کو درحقیقت دہشت گردوں کو خودکش حملوں کی تکنیکی تربیت دینے کے لیے ایک خفیہ نرسری کے طور پر استعمال کر رہی تھی۔ ان رپورٹوں نے طالبان کے ان ہتھکنڈوں پر عالمی سطح پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں جن میں بحالی مراکز کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

رپورٹ کے مطابق، طالبان نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اسلحہ کے بڑے گوداموں کے قریب کنٹینرز میں لوگوں کو محصور کر رکھا تھا۔ انکشاف ہوا ہے کہ ان افراد کو خودکش حملہ آور تیار کرنے کے لیے جبری طور پر منشیات کا عادی بنایا جا رہا تھا تاکہ انہیں مخصوص مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ ابتدائی تحقیقات اور شواہد سے یہ بات بھی واضح ہوئی ہے کہ ان کنٹینرز پر کوئی براہِ راست حملہ نہیں کیا گیا تھا، بلکہ اصل تباہی اس وقت ہوئی جب قریب موجود اسلحہ کے گودام میں زوردار دھماکے ہوئے اور آگ بھڑک اٹھی۔ ان دھماکوں کی شدت نے نہ صرف اس مرکز بلکہ قریبی عمارتوں اور پورے انفراسٹرکچر کو بھی شدید متاثر کیا۔

یہ بھی پڑھیں: افغان طالبان کا بڑا جھوٹ پکڑا گیا: پاکستان کے خلاف منظم پروپیگنڈا اور جعلی ویڈیو بے نقاب

تحقیقاتی رپورٹ میں یہ اہم نکتہ بھی اٹھایا گیا ہے کہ جہاں دھماکے ہوئے، وہ جگہ “امید ہسپتال” سے کئی سو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے، جس سے افغان حکام کے ان دعوؤں کی حقیقت کھل کر سامنے آ گئی ہے جن میں ہسپتال کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا گیا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عسکری سازوسامان اور بارود کے ذخائر کو شہریوں کی آبادی اور بحالی مراکز کے قریب رکھنا انسانی جانوں کے تحفظ کے حوالے سے مجرمانہ لاپرواہی ہے۔ اس واقعے کے بعد بین الاقوامی سطح پر طالبان کے پروپیگنڈے کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں ایسی گمراہ کن معلومات کا موثر توڑ کیا جا سکے۔

مزید پڑھیں: افغان سیکیورٹی گارڈ نے بھانڈا پھوڑ دیا: ہسپتال پر حملے کے بھارتی اور افغان پروپیگنڈے کا پول کھل گیا

Scroll to Top