مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل ) وزیر اطلاعات و مذہبی امور آزاد جموں و کشمیر چوہدری محمد رفیق نئیر نے سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی پر پابندی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے مذہبی آزادیوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے ۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک جیسے مقدس مہینے میں مسلمانوں کو جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ ادا کرنے سے روکنا نہایت افسوسناک، غیر جمہوری اور انتہاپسندانہ اقدام ہے ۔
انہوں نے کہا کہ جامع مسجد سرینگر نہ صرف ایک اہم مذہبی مقام ہے بلکہ کشمیری مسلمانوں کی دینی اور تہذیبی شناخت کی علامت بھی ہے، جہاں عبادت پر پابندی عائد کرنا کشمیری عوام کے بنیادی حقوق پر حملہ ہے ۔
چوہدری محمد رفیق نئیر نے کہا کہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں طاقت کے زور پر کشمیری عوام کی مذہبی، سماجی اور سیاسی آزادیوں کو مسلسل سلب کر رہا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ مساجد کو تالے لگانا، مذہبی اجتماعات پر پابندیاں عائد کرنا اور لوگوں کو عبادات سے روکنا بھارتی انتہا پسند حکومت کے اصل چہرے کو بے نقاب کرتا ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات سے کشمیری عوام کے حوصلے پست نہیں کیے جا سکتے اور نہ ہی ان کے عقیدے، شناخت اور مذہبی آزادی کو طاقت کے ذریعے دبایا جا سکتا ہے ۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ کشمیری عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے اپنے بنیادی حقوق اور حق خودارادیت کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں اور وہ ہر قسم کے جبر و استبداد کے باوجود اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں عالمی ضمیر کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں ۔
انہوں نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں مذہبی آزادیوں کی خلاف ورزیوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا فوری نوٹس لیں اور بھارت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حقوق فراہم کرے ۔
چوہدری محمد رفیق نئیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کشمیری عوام کی پُرامن جدوجہد ضرور کامیاب ہوگی اور تحریک آزادی کشمیر کی کامیابی نوشتۂ دیوار ہے ۔




