بچوں کو یتیم نہیں کر سکتے، سپریم کورٹ نے ’سزائے موت‘ سے متعلق بڑا فیصلہ دیدیا

 سپریم کورٹ آف پاکستان نے بیوی اور بیٹی کے قتل کے مقدمے میں ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے ملزم محمد امین کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ زندہ بچ جانے والے واحد والدین کو پھانسی دینا دراصل عدلیہ کی سرپرستی میں بچوں کو یتیم کرنے کے مترادف ہوگا۔

یہ تحریری فیصلہ جسٹس اشتیاق ابراہیم نے جاری کیا جس میں عدالت نے مقدمے کے قانونی اور انسانی پہلوؤں کا تفصیل سے جائزہ لیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ریاست کو کسی بچے کی مکمل بے بسی اور خاندان کی تباہی کا سبب نہیں بننا چاہیے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ایسے معاملات میں صرف جرم ہی نہیں بلکہ متاثر ہونے والے بچوں کے مستقبل کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے کنونشن کے تحت بچوں کے بہترین مفاد کو مدنظر رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ عدالت کے مطابق ایسے مقدمات میں جہاں کسی بچے کا واحد سہارا ملزم ہو، وہاں سزا کا تعین کرتے وقت بچوں کے مستقبل کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ : حکومت کو بلدیاتی ترقیاتی فنڈز ممبران اسمبلی کے ذریعے خرچ کرنے سے روک دیا

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ جب وارث مقتول کا براہ راست وارث خود ہو تو تعزیرات کے قانون کی دفعہ 306 کے تحت قصاص نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت کے مطابق اس مقدمے میں ملزم اپنی 15 سالہ زندہ بچ جانے والی بیٹی کا واحد سہارا ہے، اس لیے سزا کا تعین کرتے وقت اس پہلو کو بھی مدنظر رکھا گیا۔

تاہم عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ جرم انتہائی سنگین اور سفاکانہ نوعیت کا ہے، اس لیے ملزم کو کسی قسم کی غیر معمولی رعایت نہیں دی جا سکتی۔ اسی بنیاد پر عدالت نے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 382B کے تحت سزا میں رعایت دینے سے بھی انکار کر دیا۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق یہ واقعہ اپریل 2021 میں وہاڑی میں پیش آیا تھا جہاں ملزم محمد امین نے گھریلو تنازع کے بعد اپنی اہلیہ اور ایک بیٹی کو خنجر کے وار کر کے قتل کر دیا تھا جبکہ دوسری بیٹی کو شدید زخمی کر دیا تھا۔

تحقیقات کے مطابق واقعے سے ایک روز قبل ملزم کا اپنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ زرعی زمین فروخت کرنے کے معاملے پر جھگڑا ہوا تھا۔ جھگڑے کے دوران ملزم نے طیش میں آ کر اپنی بیوی پر 21 جبکہ بیٹی پر 8 خنجر کے وار کیے جس کے نتیجے میں دونوں موقع پر جاں بحق ہو گئیں جبکہ دوسری بیٹی زخمی حالت میں بچ گئی۔

ابتدائی سماعت کے دوران ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر ملزم کو دو مرتبہ سزائے موت سنائی تھی۔ بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ کے ملتان بینچ نے بھی ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے سزائے موت کا حکم برقرار رکھا تھا۔

مزید پڑھیں:آئین کا آرٹیکل 19 اور قانونی حدود: ریاست اور افواج کے خلاف پروپیگنڈا کی اجازت نہیں، اہم حکومتی بیان جاری

تاہم سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپیل کی سماعت کے بعد سزا کا ازسرنو جائزہ لیا اور انسانی و قانونی بنیادوں پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا۔ واضح رہے کہ یہ فیصلہ آئندہ ایسے مقدمات میں ایک اہم نظیر بن سکتا ہے جہاں کسی بچے کا واحد سہارا خود ملزم ہو۔

Scroll to Top