سونا سستا، تیل مہنگا: عالمی مارکیٹ میں بڑی تبدیلی، سرمایہ کار پریشان

تازہ ترین عالمی اعداد و شمار کے مطابق، بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں 3 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سونے کا بھاؤ 157 ڈالرز کم ہونے کے بعد اب 5023 ڈالرز فی اونس کی سطح پر آ گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند دنوں سے سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع نکالنے کے رجحان اور مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ نے سونے کی قیمت پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ تاہم، معاشی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ سونا اب بھی اپنی تاریخی بلند ترین سطح کے قریب ہے کیونکہ دنیا بھر میں غیر یقینی حالات اب بھی برقرار ہیں۔ عام طور پر بحران کے وقت سونا محفوظ سرمایہ کاری مانا جاتا ہے، لیکن موجودہ حالات میں مالیاتی منڈیوں کے تیز ردعمل نے قیمتوں میں عارضی کمی کر دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دبئی میں سونا عالمی قیمت سے بھی سستا مگر پاکستان میں مہنگا! وجہ کیا ہے؟

دوسری جانب، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے جنگی بادلوں نے توانائی کی عالمی منڈی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ جنگ کی وجہ سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں، جس کی وجہ سے خام تیل کی قیمتیں غیر معمولی حد تک بڑھ گئی ہیں۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں ڈبلیو ٹی آئی اور برینٹ خام تیل، دونوں کی قیمتوں میں تقریباً 30 فیصد تک کا بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ خریداروں میں اس وقت شدید بے چینی پائی جاتی ہے کیونکہ تیل پیدا کرنے والے علاقوں میں عدم استحکام قیمتوں کو مزید اوپر لے جا رہا ہے۔

توانائی کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی میں کمی نہ آئی تو تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، جس کا براہ راست اثر عالمی سطح پر ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات پر پڑے گا اور مہنگائی کا ایک نیا طوفان آ سکتا ہے۔ سونے کی قیمتوں میں کمی اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ اس بات کا اشارہ ہے کہ عالمی معیشت بڑے دباؤ کا شکار ہے۔ آنے والے دنوں میں مارکیٹ کی سمت کا تعین مشرقِ وسطیٰ کے حالات کریں گے؛ اگر جنگ بڑھی تو خام تیل مزید مہنگا اور سونا دوبارہ مہنگا ہونا شروع ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں آج فی تولہ سونے کی قیمت 513,998 روپے ہے

Scroll to Top