اسحاق ڈار

مشرق وسطیٰ میں قیام امن کیلئے اسحاق ڈار کے عالمی رہنماؤں کیساتھ ٹیلیفونک رابطے

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر ایران سمیت مختلف ممالک اور علاقائی تنظیموں کے سربراہان سے ٹیلیفونک رابطے کیے ۔ ان ملاقاتوں کا مقصد امن و استحکام کے فروغ اور کشیدگی میں کمی کیلئے ممکنہ اقدامات پر مشاورت کرنا تھا ۔

انہوں نے دولت مشترکہ کی سیکرٹری جنرل شرلی بوچوی کو آگاہ کیا کہ موجودہ حالات کے باعث وہ لندن میں ہونے والے دولت مشترکہ کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔ پاکستان کے ہائی کمشنر کو اجلاس میں نمائندگی کی ہدایت بھی دی گئی ۔ اس موقع پر انہوں نے تمام رکن ممالک کو دولت مشترکہ کے دن کی مبارکباد بھی دی ۔

اسحاق ڈار نے ملائیشیا کے وزیر خارجہ سے رابطہ کیا، جہاں دونوں رہنماؤں نے خطے کی مجموعی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا اور علاقائی امن کے لیے مشترکہ کوششوں کے تسلسل پر اتفاق کیا ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:عباس عراقچی، اسحاق ڈار کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان کی ایران کے خلاف بلاجواز حملوں کی مذمت

انہوں نے متحدہ عرب امارات کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ عبداللہ بن زید النہیان سے بھی گفتگو کی اور حالیہ کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کی جانب سے متحدہ عرب امارات کی قیادت اور عوام کیساتھ مکمل یکجہتی کا پیغام دیا ۔

نائب وزیراعظم نے خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل سے بھی رابطہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے خلیجی خطے میں امن و استحکام اور مشترکہ تعاون کے فروغ پر تفصیلی بات چیت کی جبکہ سیکرٹری جنرل نے پاکستان کی مضبوط شراکت داری کو سراہا ۔

بعد ازاں انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی بات کی۔ دونوں رہنماؤں نے کشیدگی کم کرنے کیلئے سفارتی مکالمے کی اہمیت پر زور دیا اور مستقبل میں قریبی رابطوں کے جاری رہنے پر اتفاق کیا ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:بھارت نے ائیربیس پر حملہ کر کے سپر غلطی کی، پاک فوج نےاس کا غرور خاک میں ملا دیا، اسحاق ڈار

وزارت خارجہ کے مطابق تمام رابطوں میں یہ بات دہرائی گئی کہ خطے میں امن و ترقی کے لیے باہمی تعاون اور مسلسل مذاکرات ضروری ہیں، تاکہ کسی بھی ممکنہ تنازع سے بچا جا سکے ۔

Scroll to Top