ٹی وی نشریات ہیک کیسے ہوتی ہیں اور اس سے بچاؤ کا راستہ کیا ہے؟

حالیہ دنوں میں جیو نیوز کی نشریات متاثر ہونے کا واقعہ سامنے آیا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر یہ سوال گردش کرنے لگا کہ کیا واقعی کسی ٹی وی چینل کو آسانی سے ہیک کیا جا سکتا ہے؟ کیا یہ کسی عام ہیکر کا کام ہو سکتا ہے جو محض ایک لیپ ٹاپ کے ذریعے پوری نشریات پر قبضہ کر لے؟ یا اس کے پیچھے ایک پیچیدہ تکنیکی عمل اور طاقتور آلات کارفرما ہوتے ہیں؟

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق سیٹلائٹ ایک مصنوعی خلائی نظام ہے جو زمین کے گرد مدار میں گردش کرتا ہے۔ مواصلاتی سیٹلائٹ زمین سے بھیجے گئے سگنلز وصول کرتا، ان کی طاقت بڑھاتا اور انہیں دوبارہ زمین کے مختلف علاقوں میں نشر کرتا ہے۔

سیٹلائٹ کمیونیکیشن دو بنیادی حصوں پر مشتمل ہوتی ہے:

1۔ اپ لنک

گراؤنڈ سٹیشن یا ٹیلی پورٹ سے سیٹلائٹ کی طرف بھیجا جانے والا سگنل اپ لنک کہلاتا ہے۔ چونکہ فاصلہ زیادہ ہوتا ہے، اس لیے سگنل زیادہ طاقت اور مخصوص فریکوئنسی پر بھیجا جاتا ہے۔

2۔ ڈاؤن لنک

سیٹلائٹ سے زمین کی طرف واپس آنے والا سگنل ڈاؤن لنک کہلاتا ہے۔ سیٹلائٹ سگنل کو ایمپلی فائی کرکے وسیع علاقے میں نشر کرتا ہے، جسے صارفین اپنی ڈش یا رسیور کے ذریعے وصول کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جیو نیوز کی نشریات ہیک، سکرین پر نشر کیے گئے پیغام کا جیو نیوز سے کوئی تعلق نہیں، انتظامیہ کا مؤقف

پاک سیٹ کا کردار:

سپارکو کے تحت چلنے والا سپارکو کا مواصلاتی سیٹلائٹ پاک سیٹ ون آر پاکستانی چینلز کی نشریات ملک اور بیرون ملک پہنچاتا ہے اور کمیونیکیشن سروس فراہم کرتا ہے۔

نشریات کیسے متاثر ہوئیں؟

سائبر سکیورٹی ماہر اور ریڈ سیک لیبز کے سی ای او رافع بلوچ کے مطابق یہ ممکنہ طور پر اپ لنک ہائی جیکنگ یا اپ لنک انٹرفیئرنس کا معاملہ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق سیٹلائٹ ہمیشہ زیادہ طاقتور سگنل کو ترجیح دیتا ہے۔ اگر درست فریکوئنسی اور موڈیولیشن کے ساتھ زیادہ پاور کا سگنل بھیجا جائے تو وہ موجودہ نشریات کو اوور رائٹ کر سکتا ہے۔ تاہم وہ کہتے ہیں کہ یہ عام شخص کے بس کی بات نہیں کیونکہ اس کے لیے طاقتور اپ لنک ٹرانسمیٹر یا بڑی سیٹلائٹ ڈش درکار ہوتی ہے۔

رافع بلوچ کے مطابق سیٹلائٹس مواد کی تصدیق نہیں کرتیں بلکہ زیادہ طاقتور اور درست فارمیٹ والے سگنل کو آگے نشر کر دیتی ہیں۔

’ہیک‘ یا غیر مجاز سگنل؟

منیر جیلانی، جو گزشتہ 25 برس سے میڈیا انڈسٹری سے وابستہ ہیں اور ایک نجی ٹی وی چینل میں چیف ٹیکنالوجی آفیسر (سی ٹی او) کی حیثیت سے آئی ٹی، سیٹلائٹ اور دیگر آپریشنز کی نگرانی کر رہے ہیں، اس معاملے پر رافع بلوچ کی رائے سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کے مطابق حالیہ واقعے میں ڈاؤن لنک متاثر نہیں ہوا بلکہ اپ لنک پر زیادہ طاقتور سگنل فائر کیا گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ تمام ٹی وی چینلز ایک مخصوص پیکج کے تحت سیٹلائٹ سروس حاصل کرتے ہیں اور متعلقہ چینل کا پیکج پاک سیٹ سے لیا گیا ہے، جو سپارکو کے زیر انتظام چلتا ہے۔

بی بی سی اردو سے گفتگو کرتے ہوئے منیر جیلانی نے واضح کیا:’سوشل میڈیا پر جو دعوے ہوئے کہ جیو ہیک ہو گیا، وہ درست نہیں ہیں۔ ہیک تب ہوتا ہے جب داخلی انفراسٹرکچر میں دخل اندازی ہو یا نظام پر مکمل کنٹرول حاصل کیا جائے، ایسا کچھ نہیں ہوا۔‘

ان کے مطابق اصل صورتحال یہ تھی کہ ’ایک غیر مجاز سگنل کہیں سے فائر کیا گیا۔ اس کا سراغ لگانے کے لیے یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہ کہاں سے آیا، اس کی طاقت کتنی تھی اور کون سے آلات کے ذریعے بھیجا گیا۔‘

وہ اس کی وضاحت موبائل فون کے آئی ایم ای آئی نمبر کی مثال سے کرتے ہیں۔ جیسے کسی ہینڈ سیٹ کا سراغ آئی ایم ای آئی کے ذریعے لگایا جا سکتا ہے، اسی طرح سیٹلائٹ آلات میں بھی شناختی نظام موجود ہوتے ہیں، جن کی مدد سے سگنل کے ماخذ کی نشاندہی ممکن ہوتی ہے۔

منیر جیلانی کے مطابق:’جو سگنل جیو کی نشریات میں خلل ڈال رہا تھا، پاک سیٹ کے پاس اس کی تمام معلومات گئی ہو گی۔ یہ پاک سیٹ کی ذمہ داری تھی کہ وہ ہوشیاری کا مظاہرہ کرتے اور ڈاؤن لنک کو متاثر کیے بغیر جیو کو اپ لنک پر نیا کیریئر یا فریکوئنسی دیتے تاکہ سروس بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکتی۔ تاہم، انھوں نے ایسا کچھ نہیں کیا اور انھیں ایک نیا پلاٹ نئی فریکوئنسی مختص کی۔‘

وہ مثال دیتے ہیں کہ اگر کسی چینل کا پلاٹ نمبر 116 متاثر ہو جائے یا اس پر غیر مجاز سگنل فائر ہو جائے تو متبادل کے طور پر نئی لوکیشن، مثلاً 121، دی جا سکتی ہے، جس پر پوری سیٹلائٹ ٹرانسمیشن منتقل کر دی جاتی ہے۔ اسی طرز پر متعلقہ چینل کو نئی فریکوئنسی فراہم کی گئی اور نشریات کو وہاں منتقل کیا گیا۔

بچاؤ کیسے ممکن ہے؟

رافع بلوچ کے مطابق حل انکرپشن میکانزمز ہیں۔ اگر سگنل انکرپٹڈ ہو تو نہ صرف زیادہ طاقتور سگنل بلکہ درست انکرپشن کی بھی ضرورت ہو گی، جو آسان نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کام کسی عام ہیکر کے لیے ممکن نہیں۔ بڑی اپ لنک ڈش، ہائی پاور ایمپلی فائر اور درست فریکوئنسی معلومات درکار ہوتی ہیں۔ ’کوئی عام ہیکر یہ کام اپنے لیپ ٹاپ سے نہیں کر سکتا۔‘

منیر جیلانی کے مطابق امکان ہے کہ اب سپارکو کی جانب سے نئے ریگولیٹری اقدامات کیے جائیں گے تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔ ان کے مطابق یہ گزشتہ دو دہائیوں میں پہلی بار ہوا اور ممکن ہے کہ پاک سیٹ اس صورتحال کے لیے مکمل طور پر تیار نہ تھا۔ چھ ماہ قبل چینلز کو پرانی سیٹلائٹ سے نئی سیٹلائٹ پر منتقل کیا گیا ہے اور اس کا جانچنے کا عمل جاری ہے۔

مزید پڑھیں: جیو نیوز اور جاز تماشہ ایپ پر سائبر حملہ معمولی نہیں، پاک فوج کر نشانہ بنانے کیلئے ترتیب دیا گیا، صحافی فہمیدہ یوسفی

Scroll to Top