امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حالیہ فوجی حملوں کے حوالے سے کہا ہے کہ ان کا فیصلہ مکمل طور پر درست اور ضروری تھا ۔
انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی عالمی سلامتی اور امریکہ کے قومی مفاد کے تحفظ کیلئے کی گئی۔ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اگر امریکہ بروقت اقدام نہ کرتا تو ایران دو ہفتوں کے اندر جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کر لیتا ۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان حملوں کے دوران ایران کے 48 اہم رہنما ہلاک ہوئے ہیں تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے فیصلے پر کسی قسم کی تشویش نہیں کیونکہ حالات قابو میں ہیں اور کارروائی اپنے اہداف حاصل کر رہی ہے ۔
انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو نظر انداز نہیں کرے گا اور اگر ضرورت پیش آئی تو ایران کے خلاف فضائی حملوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مجھے علم ہے خامنہ ای کے بعد ایران میں کس کا حکم چل رہا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ
دوسری جانب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے مختلف مقامات پر مزید بڑے فضائی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں ۔
ان کارروائیوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے ۔ ایرانی حکام نے ان حملوں کو جارحیت قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کا اعلان کیا ہے ۔
دوسری جانبایرانی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے خلیجی ممالک میں بعض اسٹریٹجک اہداف کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں خطے کی سلامتی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے ۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ کشیدگی اگر برقرار رہی تو اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستان افغانستان کےساتھ بہت اچھا کررہاہے ،مداخلت نہیں کرونگا، ڈونلڈ ٹرمپ
خصوصاً توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سفارتی تعلقات پر۔ صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور عالمی برادری اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے ۔




