ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ملک کی اعلیٰ قیادت سے متعلق اہم پیشرفت سامنے آرہی ہے ۔
ذرائع کے مطابق ایران کی قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی کو ممکنہ طور پر نیا سپریم لیڈر مقرر کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے ۔
ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت عالمی طاغوتی قوتوں کے خلاف جدوجہد کے ایک نئے مرحلے کا آغاز ثابت ہوگی ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سپریم لیڈر کی شہادت ایران بھر میں 7روزہ عام تعطیل اور 40 روزہ سوگ کا اعلان
بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ایران اپنے اصولی مؤقف اور پالیسیوں سے پیچھے نہیں ہٹے گا ۔
ایرانی سرکاری میڈیا کی رپورٹس کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای حالیہ حملے میں اپنے دفتر میں جاں بحق ہوئے۔ تہران میں اسرائیلی حملوں کے بعد ان کی بیٹی، نواسی، داماد اور بہو کی شہادت کی بھی تصدیق کی گئی ہے ۔
حکومت نے آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر ملک بھر میں 40 روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے، جس کے دوران قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔ حکام کے مطابق تمام سرکاری ادارے، تعلیمی مراکز اور بیشتر دفاتر سات روز تک بند رہیں گے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ایران اسرائیل کشیدگی،دبئی ایئرپورٹ بند،فضائی آپریشن معطل،ہزاروں مسافر پھنس گئے
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے حوالے سے تاحال کوئی واضح بیان سامنے نہیں آیا، اور ان کی موجودگی یا صورت حال سے متعلق سرکاری سطح پر خاموشی برقرار ہے ۔




