تہران: ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کے خاتمے اور تعلقات کی بہتری کیلئے مکمل تعاون اور ثالثی کیلئے تیار ہے ۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دونوں ممالک کے درمیان حالیہ سرحدی کشیدگی کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا کہ ایران ہر ممکن کوشش کرے گا کہ برادر اسلامی ممالک کے درمیان بات چیت اور مذاکرات کا عمل فروغ پائے۔
عباس عراقچی نے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان اور افغانستان اپنے اختلافات کو سفارتی ذرائع اور مذاکرات کے ذریعے حل کریں ۔ انکا کہنا تھا کہ جارحانہ رویہ اور کشیدگی کی فضاء خطے کے عوام کیلئے نقصان دہ ہے اور دونوں ممالک کو اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرتے ہوئے تعمیری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پاک فوج کا افغان طالبان کی جارحیت کا بھرپورجواب، قندھار میں کور ہیڈکوارٹرز تباہ کر دیا
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران نہ صرف ثالثی کے عمل میں مدد فراہم کرے گا بلکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے متوازن اور تعمیری کردار ادا کرے گا۔ عراقچی نے کہا کہ ایران خطے میں کشیدگی کے خاتمے، دیرپا امن، اور تعاون کے فروغ کے لیے ہمیشہ مثبت کردار ادا کرتا رہے گا ۔
عراقچی کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اپنے ہمسایہ ممالک کے درمیان امن قائم رکھنے کیلئے فعال سفارتی کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان باہمی اعتماد، بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنا خطے کی سلامتی اور ترقی کے لیے کلیدی اہمیت رکھتا ہے ۔
ایران کی یہ پیشکش عالمی برادری کیلئے بھی ایک مثبت پیغام ہے کہ وہ کشیدگی کی شدت کم کرنے اور خطے میں دیرپا امن قائم رکھنے کیلئے تعاون کی راہ ہموار کر سکتا ہے ۔ ایران کی ثالثی کا یہ اقدام پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بہتری کیلئے ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ دونوں ممالک اس پیشکش کو بروئے کار لائیں گے ۔




