باغ (کشمیر ڈیجیٹل )آزاد کشمیر کے سابق وزیر صحت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر وزیر سردار قمر الزمان خان نے کہا ہے کہ موجودہ سیاسی حالات کے پیش نظر آزاد کشمیر کا صدر 100 فیصد سیاسی شخصیت کا حامل ہونا چاہیے ۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے پاس 40 سال بعد کوئی ایسا تجربہ کار سیاسی کارکن نہیں جو اس اہم عہدے کے لیے منتخب کیا جا سکے ۔
سردار قمر الزمان خان نے خبردار کیا کہ آج کل ایک بار پھر ایسے شخص کا نام زیر غور ہے جو پہلے بھی 5 سال تک صدر رہ چکا ہے لیکن ان کا کہنا تھا کہ اس کا کردار اس اہم پوسٹ کیلئے بالکل بھی مناسب نہیں ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سردار قمر الزمان کے اعلان نے تنویر الیاس کیلئے خطرے کی گھنٹی بجادی
انہوں نے زور دیا کہ صدر ایک چانسلر ہوتا ہے اور اس عہدے کے ساتھ بچیوں کی عزت اور کردار کا بھی تعلق جڑا ہوتا ہے ۔ سردار قمر الزمان کے مطابق اس شخص کا گزشتہ دور “بھیانک” تھا اور کشمیر ہاؤس کی دیواریں اس کی گواہی دے سکتی ہیں ۔
سردار قمر الزمان خان نے کہا کہ ایسے افراد کو اس طرح کے اہم عہدوں پر بالکل بھی نہیں ہونا چاہیے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو اس مسئلے پر تمام ممبران کو ساتھ لے کر فیصلہ کرنا ہوگا تاکہ جو بھی صدر منتخب ہو، وہ سیاسی اور تجربہ کار شخصیت کیساتھ ساتھ اعلیٰ اخلاقی معیار اور صاف شفاف کردار کا حامل ہو ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سردارقمرالزمان کا کینسر کی تشخیص کیلئے ادارہ بنانے کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر کے صدر کا کردار نہ صرف سیاسی فیصلوں میں اہم ہوتا ہے بلکہ معاشرتی اور اخلاقی ذمہ داریوں کے لحاظ سے بھی نہایت حساس ہے، اس لیے اس عہدے کیلئے مناسب اور قابل اعتماد شخصیت کا انتخاب لازم ہے ۔ سردار قمر الزمان خان نے آخر میں کہا کہ شفافیت اور تجربے کے بغیر کوئی بھی شخص اس اہم منصب کیلئے موزوں نہیں ہو سکتا ۔




