پاکستانی کرکٹر احمد شہزاد نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 2026 کی نیلامی میں شامل نہ کئے جانے پر اپنے جذبات کا کھل کر اظہار کیا ہے ۔ ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کے دوران وہ اس معاملے پر آبدیدہ ہو گئے ۔
پروگرام میں احمد شہزاد کے ساتھ سابق قومی فاسٹ بولر محمد عامر بھی موجود تھے ۔ میزبان نے احمد شہزاد سے سوال کیا کہ پی ایس ایل کے حالیہ سیزن کا حصہ نہ بن پانے پر وہ کیسا محسوس کرتے ہیں، خاص طور پر جب وہ اس سے قبل بھی دو ایڈیشن نہیں کھیل سکے ۔ اس پر انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ صورتحال انہیں اندر سے متاثر کرتی ہے اور وہ جذباتی ہو جاتے ہیں ۔
احمد شہزاد کا کہنا تھا کہ وہ اب بھی کرکٹ کھیلنے کا جذبہ رکھتے ہیں اور میدان میں واپسی چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اپنے ہم عصر کھلاڑیوں کو لیگ میں کھیلتے دیکھ کر خوشی ہوتی ہے، لیکن ساتھ ہی یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ وہ خود کیوں اس کا حصہ نہیں بن پا رہے ۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کرکٹ کو انہوں نے تقریباً اٹھارہ سال دیے ہیں، اس لیے اچانک سب کچھ ختم ہو جانا ان کے لیے تکلیف دہ ہے ۔ ان کے مطابق ماضی کی یادیں اکثر انہیں رنجیدہ کر دیتی ہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پاک بھارت ہائی وولٹیج ٹاکرے میں بارش کی انٹری ہونے کا امکان
احمد شہزاد نے اس بات پر ناراضی کا اظہار بھی کیا کہ کرکٹ حکام میں سے کسی نے ان سے رابطہ کرکے ان کی صورتحال جاننے یا بات چیت کی کوشش نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی آگے بڑھ کر معاملات پر گفتگو کرتا تو وہ انکار نہ کرتے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ خود فون کر کے بات کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں کیونکہ ایک ایسے کھلاڑی کے لیے، جس نے بڑے فیصلے کیے ہوں، عزتِ نفس بہت اہم ہوتی ہے ۔
گفتگو کے دوران احمد شہزاد نے اپنے بیٹے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے لیے سب سے زیادہ دکھ کی بات یہ ہے کہ ان کا نو سالہ بیٹا انہیں دوبارہ کھیلتے دیکھنا چاہتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ بیٹا اکثر ان کا حوصلہ بڑھاتا ہے اور ماضی کی یادیں دہراتا ہے، جو ان کے لیے جذباتی لمحہ بن جاتا ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ٹی 20ورلڈکپ، اٹلی نے 2بھائیوں کی بدولت پہلی کامیابی سمیٹ لی
آخر میں احمد شہزاد نے کہا کہ وہ مجموعی طور پر زندگی سے مطمئن ہیں، تاہم کرکٹ سے دوری ایک ایسی چیز ہے جو انہیں اندر سے تکلیف دیتی ہے ۔




