مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل نیوز) مظفرآباد کے نواحی علاقے پجگراں میں بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کے خلاف مقامی آبادی کی جانب سے ایک احتجاجی پروگرام منعقد کیا گیا، جس میں مردوں اور خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔
احتجاجی اجلاس کا مقصد علاقے کو درپیش بنیادی انسانی ضروریات، خصوصاً بجلی اور پینے کے پانی کی شدید قلت، کو اجاگر کرنا تھا ۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ پجگراں طویل عرصے سے بنیادی سہولیات سے محروم چلا آ رہا ہے جبکہ گزشتہ ایک ہفتے سے محکمہ برقیات بجلی کی فراہمی بحال کرنے میں ناکام رہا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ پینے کے صاف پانی کی قلت میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔
معززینِ علاقہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ کی غفلت اور حکومتی بے حسی کے باعث علاقہ شدید مشکلات کا شکار ہے، جس سے شہریوں کی روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ ادارے فوری طور پر صورتحال کا نوٹس لیں اور عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کریں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مظفر آباد، بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، عوام کا شدید احتجاج
احتجاج میں شریک خواتین نے بھی اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے آواز بلند کی اور متعلقہ ادارے کو خبردار کیا کہ اگر فوری طور پر بجلی اور پانی کی فراہمی یقینی نہ بنائی گئی تو وہ بھی عملی احتجاج میں بھرپور شرکت کریں گی ۔
اہلِ علاقہ نے حکومت کو متنبہ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اگر ان کے جائز مطالبات پورے نہ کیے گئے تو 13 فروری کو چہلہ کے مقام پر شاہراہ پر پرامن احتجاج کیا جائے گا ۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ یہ احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ان کے بنیادی مسائل حل نہیں کیے جاتے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:حکومتی انتقامی کارروائیاں،ن لیگی رہنما چوہدری محمدرزاق کا احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان
آخر میں اہلِ علاقہ نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ محکمے فوری نوٹس لیتے ہوئے بجلی اور پینے کے پانی کی فراہمی کو یقینی بنائیں تاکہ عوام کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔




