اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی علی محمد خان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی سیاسی قیادت کو اب بولڈ اور فیصلہ کن فیصلے کرنا ہوں گے اور اگر کوئی اس پوزیشن میں نہیں کہ ایسا قدم اٹھا سکے تو اسے عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔
نجی نیوز چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے علی محمد خان نے کہا کہ حقیقت پسندانہ انداز میں بات کرنا ہوگی کیونکہ ہلکے پھلکے اقدامات سے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی راہ ہموار نہیں ہو سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ مسئلے کا حل یا تو خالص سیاسی ڈائیلاگ میں ہے یا پھر ملک بھر میں بھرپور اور پرامن احتجاج کے ذریعے حکومت کو بانی پی ٹی آئی کی رہائی پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔
پارٹی قیادت سے متعلق بات کرتے ہوئے علی محمد خان نے واضح مؤقف اختیار کیا کہ اگر کوئی قیادت فیصلہ کن قدم نہیں اٹھا سکتی تو اسے اپنی ذمہ داری چھوڑ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ دو ٹوک بات کرنا ہوگی اور یہ واضح کرنا ہوگا کہ ہمیں بانی پی ٹی آئی کو بھٹو نہیں بنانا، ہمیں وہ زندہ باہرچاہئیں۔
یہ بھی پڑھیں: فرانزک لیب رپورٹ: 9مئی ہنگامہ آرائی میں اہم پی ٹی آئی رہنماؤں کی موجودگی کی تصدیق
ایک سوال کے جواب میں علی محمد خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے خود انہیں سیاسی کمیٹی میں شامل کیا تھا، تاہم موجودہ قیادت نے انہیں اس کمیٹی سے نکال دیا۔ اس کے باوجود انہوں نے کہا کہ وہ نئی لیڈر شپ اور موجودہ کمیٹی کے اراکین کی حمایت جاری رکھیں گے۔
علی محمد خان نے بانی پی ٹی آئی کی صحت کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں کوئی عارضہ لاحق ہے تو ڈاکٹروں کو ملاقات کی اجازت دی جانی چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر فیصل سلطان یا شوکت خانم کی میڈیکل ٹیم کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا موقع دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ شوکت خانم کے ڈاکٹروں کا ایک واضح ٹریک ریکارڈ ہے، یہ ڈاکٹرز ہمیشہ خود کو صرف طبی معاملات تک محدود رکھتے ہیں اور کبھی سیاسی گفتگو نہیں کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان ڈاکٹروں کو ملاقات کی اجازت دے دی جائے تو یہ معمہ حل ہو جائے گا۔مزید یہ کہ ہم ریلیف ملنے کی امید کرتے ہیں، ہمیں بانی سے ملاقات کی رسائی دی جائے۔
مزید پڑھیں: جعلی تصویر، پی ٹی آئی لیڈرکا آرمی کیپٹن سے متعلق دعویٰ بے بنیادنکلا
انہوں نے چیف جسٹس سے سلمان اکرم راجا کی ملاقات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ یہ ملاقات صبح ہی ہونی چاہیے تھی اور کچھ تاخیر سے ہوئی، تاہم یہ مثبت پیش رفت ہے کہ خیر سے ملاقات ہو گئی۔
علی محمد خان نے مزید کہا کہ وہ اس بات کے لیے پرامید ہیں کہ ڈاکٹر صاحبان کو جلد بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت مل جائے گی۔




