سندھ کے تعلیمی بورڈز میں نمبر سسٹم ختم، نیا گریڈنگ نظام منظور

کراچی: سندھ حکومت نے صوبے کے تمام تعلیمی بورڈز میں رائج قدیم ’نمبر سسٹم‘ ختم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے نئے گریڈنگ نظام کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات پر ہوگا، جس کے تحت طلبہ کی کارکردگی اب نمبروں کے بجائے گریڈز کی بنیاد پر جانچی جائے گی۔

صوبائی وزیر برائے جامعات اسماعیل راہو کے مطابق سندھ بھر کے تعلیمی بورڈز میں امتحانی نتائج کے لیے استعمال ہونے والا نمبر سسٹم ختم کر کے بین الاقوامی معیار کے مطابق نیا گریڈنگ سسٹم نافذ کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ اہم فیصلہ انٹر بورڈ کوآرڈینیشن کمیشن (IBCC) کی جانب سے وفاقی سطح پر کیے گئے پالیسی فیصلوں کی روشنی میں کیا گیا ہے، تاکہ تعلیمی نظام میں یکسانیت پیدا کی جا سکے۔

اسماعیل راہو کے مطابق نئے گریڈنگ سسٹم کا نفاذ صوبے بھر میں مرحلہ وار کیا جائے گا۔ رواں سال 2026 میں نویں اور گیارہویں جماعت (SSC-I اور HSSC-I) کے پہلے سالانہ امتحانات سے اس نظام کا آغاز ہوگا۔ اس کے بعد سال 2027 میں دسویں اور بارہویں جماعت (SSC-II اور HSSC-II) کے سالانہ امتحانات پر بھی اسی گریڈنگ سسٹم کا اطلاق کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: جویریہ زبیر بخاری کیس میں اہم پیشرفت، 2 ملزمان کی درخواست ضمانت مسترد

نئے نظام کے تحت طلبہ کی کارکردگی کو مختلف گریڈز میں تقسیم کیا جائے گا۔ اس گریڈنگ سسٹم کے مطابق 96 فیصد سے 100 فیصد تک نمبرز حاصل کرنے والے طلبہ کو اے ڈبل پلس (A++) جبکہ 91 فیصد سے 95 فیصد تک نمبرز لینے والوں کو اے پلس (A+) دیا جائے گا۔ اسی طرح 86 فیصد سے 90 فیصد تک اے (A)، 81 فیصد سے 85 فیصد تک بی ڈبل پلس (B++)، 76 فیصد سے 80 فیصد تک بی پلس (B+)، اور 71 فیصد سے 75 فیصد تک بی (B) گریڈ مقرر کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ 61 فیصد سے 70 فیصد تک سی پلس (C+)، 51 فیصد سے 60 فیصد تک سی (C)، اور 40 فیصد سے 50 فیصد تک ڈی (D) گریڈ یعنی امرجنگ قرار دیا گیا ہے۔ جبکہ 40 فیصد سے کم نمبر لینے والے طلبہ کو یو (U) یعنی ناکام یا انڈر گریڈڈ تصور کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم فیصل راٹھورکا دورہ حویلی آج ، اہم منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھیں گے

صوبائی وزیر کے مطابق نئی پالیسی کے تحت پاسنگ مارکس کی کم از کم حد 40 فیصد مقرر کی گئی ہے۔ وہ طلبہ جو کسی بھی پرچے میں 40 فیصد سے کم نمبر حاصل کریں گے، انہیں اسی مضمون میں دوبارہ امتحان دے کر اپنی کارکردگی بہتر بنانے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔ اسماعیل راہو کا کہنا تھا کہ اس نظام کا مقصد ملک بھر کے تعلیمی بورڈز میں ہم آہنگی اور یکسانیت لانا ہے، اور تمام بورڈز میں اس نظام کے مکمل نفاذ کے بعد مستقبل میں جی پی اے (GPA) سسٹم بھی متعارف کرایا جائے گا۔ وزیر جامعات کے مطابق سندھ حکومت نے اس نئی پالیسی کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔

Scroll to Top