مظفرآباد/پٹہکہ میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت نے تھانہ کہوڑی کے معروف مقدمہ نمبر 69/2022 بعنوان “ریاست بنام حماد وغیرہ” کا فیصلہ سنایا۔ یہ مقدمہ علاقے میں کافی شہرت رکھتا تھا اور عوام کی بڑی تعداد اس فیصلے کے موقع پر عدالت میں موجود رہی۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نصیرآباد کی عدالت نے ملزم حماد کو تعزیراً سزائے موت کی سزا سنائی۔ عدالت نے حماد کو مقتول کے ورثا کو 10 لاکھ روپے بطور کمپنسیشن ادا کرنے کا بھی حکم دیا۔ دوسرے ملزم عثمان کو تعزیراً عمر قید کی سزا سنائی گئی جبکہ اس پر 5 لاکھ روپے بطور کمپنسیشن عائد کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: کپتان کے بغیر نظام قبول نہیں،رہائی تک جدوجہد جاری رہے گی،سردار عبدالقیوم نیازی
فیصلے کے موقع پر علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد موجود تھی، جنہوں نے عدالتی فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا اور عدلیہ پر مکمل اعتماد کا اعادہ کیا۔ عدالتی کارروائی کے دوران سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے تاکہ کسی قسم کے ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
اس مقدمے کی پیروی مدعی کی جانب سے ایڈووکیٹ ہائی کورٹ طاہر عزیز خان نے کی، جبکہ ملزمان کی نمائندگی راجہ سجاد احمد، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ نے کی۔ ریاست کی نمائندگی اسسٹنٹ پبلک پراسیکیوٹر راجہ محمد آصف ترک نے کی۔ عدالتی فیصلے کو انصاف کی فتح قرار دیا جا رہا ہے، اور اسے علاقے میں عدلیہ کی شفافیت اور مضبوطی کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پانچ سالہ بچے کے سینے سے نامکمل بچہ برآمد، ڈاکٹرز بھی دنگ رہ گئے
اس مقدمے میں عدالت نے دفعات 34، 341 اور 302 تعزیرات پاکستان کے تحت جرم ثابت ہونے کے بعد سزا سنائی، جو نہ صرف قانونی لحاظ سے اہمیت رکھتی ہے بلکہ عوامی سطح پر بھی اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوئی ہے۔ مقدمے کا فیصلہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور انصاف کے تقاضے ہر صورت پورے کیے جائیں گے۔




