شہزادی لیونور 150 سال بعد اسپین کی پہلی ملکہ بننے کیلئے تیار

اسپین ڈیڑھ سو سال بعد ایک بار پھر ایک ملکہ کے استقبال کے لیے تیار دکھائی دیتا ہے، اور اس بار یہ تاج ایک ایسی شہزادی کے سر سجنے جا رہا ہے جو تعلیم، عسکری تربیت اور عالمی وژن کا منفرد امتزاج سمجھی جاتی ہیں۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسپین کے بادشاہ فیلپے ششم اور ملکہ لیٹیزیا کی بڑی بیٹی شہزادی لیونور کو محض 20 برس کی عمر میں اُس منصب کے لیے تیار کیا جا رہا ہے جس کا انتظار اسپین نے گزشتہ 150 برسوں سے کر رکھا ہے۔

شہزادی لیونور کی تخت نشینی کے بعد اسپین کو ڈیڑھ صدی بعد پہلی مرتبہ ایک بااختیار ملکہ ملے گی۔ اس سے قبل اسپین پر حکومت کرنے والی آخری خاتون حکمراں ملکہ ازابیلا دوم تھیں، جن کی سلطنت 1868 میں اختتام پذیر ہوئی تھی۔ اس کے بعد اسپین کی تاریخ میں کئی بادشاہ آئے، مگر ملکہ کا تاج دوبارہ کسی خاتون کے سر نہ سجا۔

اسپین میں بادشاہت کا نظام بوربن خاندان کے پاس ہے، جو اٹھارویں صدی سے اقتدار کی علامت کے طور پر چلا آ رہا ہے۔ 2014 میں سابق بادشاہ خوان کارلوس اول کے دستبردار ہونے کے بعد فیلپے ششم تخت نشین ہوئے، اور اسی موقع پر شہزادی لیونور کو باضابطہ طور پر ولی عہد قرار دیا گیا۔ 2005 میں پیدا ہونے والی شہزادی لیونور آئینی طور پر اپنے والد کے بعد تاج کی واحد وارث ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو ایک اور تنبیہ،تہران نے بھی امریکی اتحادیوں کو خبردار کردیا

مستقبل کی ملکہ کی تیاری صرف شاہی آداب تک محدود نہیں رکھی گئی۔ ہسپانوی قانون کے مطابق ولی عہد کے لیے عسکری تربیت لازم ہے، اور شہزادی لیونور نے اس تقاضے کو غیر معمولی سنجیدگی کے ساتھ پورا کیا۔ انہوں نے برطانیہ کے معروف تعلیمی ادارے یو ڈبلیو سی اٹلانٹک کالج، ویلز سے انٹرنیشنل بکلوریٹ مکمل کیا، جہاں ان کی شخصیت کو عالمی نقطۂ نظر سے نکھارا گیا۔ اس کے بعد انہوں نے اسپین میں باضابطہ فوجی تربیت کا آغاز کیا۔

اگست 2023 میں شہزادی لیونور نے زرگوزا میں آرمی ٹریننگ شروع کی۔ اگلے ہی برس وہ بحریہ کی تربیت کے مرحلے میں داخل ہوئیں اور تربیتی جہاز خوان سباستیان دے الکانو پر عملے کے ایک عام رکن کی حیثیت سے شامل ہوئیں۔ اس دوران انہوں نے 140 دنوں میں 17 ہزار میل کا طویل سمندری سفر بھی طے کیا، جو اس تربیت کی سختی اور مشقت کو واضح کرتا ہے۔

بعد ازاں شہزادی لیونور نے جدید جنگی جہاز بلاس دے لیزو پر بھی عملی خدمات انجام دیں، جسے ہسپانوی بحریہ کا ایک اہم اثاثہ تصور کیا جاتا ہے۔ فضا میں بھی انہوں نے ایک نیا سنگ میل عبور کیا۔ دسمبر 2025 میں انہوں نے پی سی-21 طیارے میں اپنی پہلی تنہا پرواز مکمل کی، جس کے ساتھ وہ ہسپانوی شاہی خاندان کی پہلی خاتون بن گئیں جنہوں نے یہ اعزاز حاصل کیا۔

یہ بھی پڑھیں: ایران پر ممکنہ امریکی حملہ پر خطہ ہائی الرٹ ، سعودی عرب نے اہم فیصلہ کرلیا

ایئر فورس کی تربیت کے دوران ریجن آف مرسیا کی جانب سے انہیں گولڈ میڈل دینے کا اعلان کیا گیا، جو اس بات کی علامت ہے کہ انہیں مستقبل میں مسلح افواج کی کمانڈر انچیف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ شہزادی لیونور کئی زبانوں پر عبور رکھتی ہیں، جن میں ہسپانوی، کاتالان، انگریزی، فرانسیسی، عربی اور مینڈرن شامل ہیں، جو انہیں عالمی سطح پر ایک منفرد شاہی شخصیت بناتا ہے۔

Scroll to Top