خیبرپختونخوا حکومت کا فوجی بریفنگ سے متعلق دعویٰ جعلی قرار، سرکاری ذرائع

خیبر پختونخوا میں ایک نیا سیاسی تنازع اس وقت سامنے آیا ہے جب سوشل میڈیا پر صوبائی حکومت کی جانب سے پاکستان آرمی کی 11 کور کو سیکیورٹی بریفنگ کے حوالے سے مبینہ طور پر خط لکھنے کے دعوے گردش کرنے لگے۔ تاہم  ذرائع نے ان دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اس نوعیت کا کوئی خط نہ تو متعلقہ اداروں کو موصول ہوا اور نہ ہی کسی سرکاری یا باضابطہ چینل کے ذریعے ایسی کوئی درخواست دی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر زیر گردش دعوے ایک مخصوص بیانیے کی عکاسی کرتے ہیں، جن کا زمینی حقائق یا سرکاری ریکارڈ سے کوئی تعلق نہیں۔

باخبر ذرائع نے واضح کیا ہے کہ مبینہ خط و کتابت محض سوشل میڈیا تک محدود ہے اور اسے کسی بھی سطح پر سرکاری اقدام یا رابطہ تصور نہیں کیا جا سکتا۔ اس صورتحال نے ایک بار پھر خیبر پختونخوا میں حکمرانی اور سیکیورٹی معاملات سے متعلق بحث کو جنم دیا ہے، تاہم ذرائع اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایسے حساس معاملات میں غیر مصدقہ معلومات کا پھیلاؤ نہ صرف گمراہ کن بلکہ نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی کا دورۂ پنجاب، ناروا سلوک پر مریم نواز کو احتجاجی خط لکھ دیا

ذرائع کے مطابق سیکیورٹی بریفنگز کا ایک طے شدہ ادارہ جاتی طریقۂ کار ہوتا ہے۔ 11 کور جیسی فوجی تشکیل، جو پاکستان آرمی اور ایک وفاقی ادارہ ہے، اس سے متعلق کسی بھی نوعیت کی بریفنگ یا رابطہ روایتی طور پر وفاقی حکومت کے ذریعے طے کیا جاتا ہے۔ اگر کسی درخواست کو ضروری سمجھا جائے تو وہ وزارتِ دفاع کے ذریعے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کو ارسال کی جاتی ہے، جہاں قائم شدہ نظام کے تحت متعلقہ حکام نامزد کیے جاتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی سطح پر براہِ راست رابطے کے دعوے، چاہے وہ عملی شکل اختیار نہ بھی کریں، ادارہ جاتی نظام سے متعلق پائی جانے والی غلط فہمیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق دہشتگردی جیسے سنگین اور پیچیدہ مسئلے سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ پالیسی، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور طویل المدتی حکمتِ عملی ناگزیر ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فرانزک لیب رپورٹ: 9مئی ہنگامہ آرائی میں اہم پی ٹی آئی رہنماؤں کی موجودگی کی تصدیق

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس تنازع کو وسیع تر سیاسی تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے، جہاں انتظامی اقدامات، بیانیے اور حکمرانی کے طرزِ عمل پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں نے اس امر پر زور دیا ہے کہ موجودہ نازک سیکیورٹی صورتحال میں غیر مصدقہ دعوؤں سے گریز اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کی اشد ضرورت ہے، تاکہ اداروں پر عوامی اعتماد برقرار رکھا جا سکے۔

Scroll to Top