کراچی: مشہور یوٹیوبر رجب بٹ کراچی سٹی کورٹ میں پیشی کے دوران وکلا کے ایک گروپ کے مبینہ تشدد کا نشانہ بن گئے، جس کے بعد عدالتی احاطے میں شدید کشیدگی پھیل گئی اور سیکیورٹی انتظامات پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز کے مطابق رجب بٹ کے خلاف حیدری تھانے میں توہین مذہب کے الزامات کے تحت مقدمہ درج ہے، جس کے سلسلے میں وہ عبوری ضمانت پر ہیں۔ پیر کو وہ اسی کیس میں عبوری ضمانت کی توسیع کے لیے کراچی سٹی کورٹ پہنچے تھے۔
عینی شاہدین کے مطابق جیسے ہی رجب بٹ عدالت کے احاطے میں داخل ہوئے، وکلا کے ایک گروپ سے ان کا سامنا ہو گیا، جس کے بعد تلخ کلامی شروع ہوئی اور صورتحال دیکھتے ہی دیکھتے تشدد میں بدل گئی۔ بتایا گیا ہے کہ حملے کے دوران رجب بٹ کے وکلا نے بیچ بچاؤ کی کوشش کی، تاہم ہجوم کے باعث صورتحال پر قابو پانا مشکل ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں: یوٹیوب کا اے آئی سے بنے فرضی چینلز کے خلاف سخت کریک ڈاؤن
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ رجب بٹ پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں ان کے جبڑے اور منہ پر چوٹیں آئیں اور خون بہنے کے آثار نظر آئے، جبکہ تشدد کے دوران ان کی شرٹ بھی پھٹ گئی۔ واقعے کے بعد عدالتی اہلکار اور پولیس موقع پر پہنچے اور حملہ آوروں کو منتشر کر کے صورتحال کو قابو میں کیا۔
During a court appearance in a blasphemy case in Karachi, lawyers assaulted famous YouTuber #rajabbutt. In a video filmed by our colleague @ShahidHussainJM, the lawyers are seen clarifying that the YouTuber was attacked for allegedly insulting the dignity of the legal community.… pic.twitter.com/HZEtzzb9mP
— Naimat Khan (@NKMalazai) December 29, 2025
واقعے کے بعد سٹی کورٹ کے احاطے میں خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ وکلا اور سائلین کی بڑی تعداد جمع ہو گئی۔ اس موقع پر عدالتی سیکیورٹی پر بھی سوالات اٹھائے گئے کہ حساس مقدمات میں پیشی کے دوران حفاظتی انتظامات کیوں ناکافی تھے۔
یہ بھی پڑھیں:معروف یوٹیوبر سعد الرحمن عرف ڈکی بھائی کیمپ جیل سے رہا
بعد ازاں عدالت نے رجب بٹ کی عبوری ضمانت میں 13 جنوری تک توسیع کر دی۔ واقعے پر قانونی حلقوں اور سوشل میڈیا پر بھی ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں عدالتی احاطوں میں تشدد کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔




