توشہ خانہ کیس 2: پی ٹی آئی کا اپیل کا اعلان، سیاسی ردعمل

سابق وزیراعظم اور بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ کیس 2 میں سنائی گئی سزا کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس مقصد کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کی حکمت عملی طے کر لی گئی ہے اور قانونی ٹیم جلد اپیل دائر کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کی واضح ہدایات کے مطابق فیصلے کے خلاف دستیاب تمام قانونی راستے اختیار کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل دائر کرنے کے لیے قانونی نکات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔

سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ توشہ خانہ ون اور سائفر کیس کی طرح اس مقدمے کے ٹرائل کے دوران بھی کئی قانونی خامیاں سامنے آئیں۔ ان کے مطابق ان قانونی سقم کو اپیل میں تفصیل کے ساتھ اجاگر کیا جائے گا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالتی کارروائی میں شفافیت کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے اور بنیادی قانونی اصولوں کو نظرانداز کیا گیا۔

وکیل سلمان صفدر نے یہ بھی کہا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو جیل میں سخت اور نامناسب حالات کا سامنا ہے جو انسانی حقوق کے منافی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قانونی ٹیم کو گزشتہ رات تقریباً 8 بجے اطلاع دی گئی کہ توشہ خانہ کیس 2 کی سماعت اگلی صبح 9 بجے اڈیالہ جیل میں ہوگی۔ موٹروے بند ہونے اور خراب موسم کے باوجود ٹیم لاہور سے روانہ ہو کر بروقت سماعت میں شریک ہوئی۔

سلمان صفدر کے مطابق جج نے ملزمان اور وکلا کی عدم موجودگی میں فیصلہ سنا دیا، حالانکہ آج دلائل مکمل کیے جانے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا جانا تھا۔

ادھر توشہ خانہ ٹو کیس میں دی گئی سزا پر اپوزیشن جماعتوں اور مختلف سیاسی رہنماؤں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ خیبر پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے فیصلوں سے معاشرے میں بے چینی اور انتشار میں اضافہ ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: توشہ خانہ ٹو کیس، پی ٹی آئی کے غیر منصفانہ ٹرائل کے دعوے ثبوتوں کے ساتھ مسترد

تحریک تحفظ آئین کے سربراہ محمود اچکزئی نے کہا کہ حق کی بات کرنے والوں کو سزا دینا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔ ان کے مطابق ملک میں اربوں روپے کی کرپشن کے باوجود احتساب کا معیار یکساں نہیں۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل نے توشہ خانہ کیس میں سزا کو ناانصافی قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا ماضی میں توشہ خانہ سے فائدہ اٹھانے والوں کو بھی سزا دی گئی؟ ان کا کہنا تھا کہ آئین اور قانون کی بالادستی سب کے لیے یکساں ہونی چاہیے۔

مجلس وحدت المسلمین کے رہنما علامہ ناصر عباس نے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوام اور پارلیمنٹ غیر مؤثر ہوتی جا رہی ہیں جبکہ انصاف ناپید نظر آتا ہے۔

سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے بھی فیصلے کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عمل اب صرف سیاستدانوں تک محدود نہیں رہا۔

یہ بھی پڑھیں:توشہ خانہ ٹو کیس، عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 10۔10 سال قید کی سزا

دوسری جانب قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ توشہ خانہ کیس 2 میں تمام قانونی اور انصاف پر مبنی پہلوؤں کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ ان کے مطابق عدلیہ کی جانب سے آنے والے فیصلوں پر سوال اٹھانا ملکی نظام سے انحراف کے مترادف ہو سکتا ہے۔

Scroll to Top