آزاد جموں و کشمیر میں ایک اہم سیاسی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے چیف آرگنائزر اور قانون ساز اسمبلی کے سابق امیدوار راجہ ثاقب مجید کے حامیوں نے باقاعدہ طور پر پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ یہ پیش رفت اس پس منظر میں سامنے آئی ہے کہ حالیہ دنوں میں علاقے کے سیاسی ماحول میں نمایاں تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں، جن کے اثرات آئندہ سرگرمیوں پر پڑنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
راجہ ثاقب مجید کے حوالے سے سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق مسلم کانفرنس، جسے عمومی طور پر ایم سی کے نام سے پکارا جاتا ہے، میں ان کے فعال کردار اور تنظیمی ذمہ داریوں کو ہمیشہ اہمیت دی جاتی رہی ہے۔ ان کے حامیوں کی جانب سے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا اعلان مقامی سیاسی ماحول میں ایک نئی بحث کا باعث بن رہا ہے کیونکہ اس فیصلے کے بعد حلقے میں ووٹ بینک اور سیاسی حکمت عملی سے متعلق مختلف اندازے سامنے آ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیرحکومت میں مختلف محکموں کے سیکرٹریز کے تبادلے اور تعیناتیاں
ذرائع کے مطابق یہ تبدیلی اس وقت واضح ہونا شروع ہوئی جب چند روز قبل راجہ ثاقب مجید نے وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر امیرمقام سے ایک ملاقات کی۔ ملاقات کے فوری بعد ان کے حلقے میں سیاسی ماحول تبدیل ہونا شروع ہوا اور آج ان کے حامیوں نے مشترکہ طور پر مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے کا اعلان کر دیا۔ اس پیش رفت نے سیاسی حلقوں میں نئی سرگرمیوں کو جنم دیا ہے جن پر مقامی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزاعظم فیصل راٹھور سےشاہ غلام قادرکی اہم ملاقات،چیف الیکشن کمشنر کا نام فائنل
مقامی ذرائع کے مطابق راجہ ثاقب مجید کے حامیوں کا مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونا آئندہ سیاسی ماحول پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔ اس حوالے سے علاقائی سیاست میں ممکنہ تبدیلیوں کا تذکرہ بھی کیا جا رہا ہے جن کا مرکز ان ہی کی شخصیت اور ان کے اثرورسوخ کو قرار دیا جا رہا ہے۔ سیاسی سرگرمیوں پر اس پیش رفت کے اثرات سے متعلق مزید معلومات آئندہ دنوں میں سامنے آئیں گی، جنہیں علاقے میں جاری سیاسی گفتگو کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔




