اسپین میں خاتون ملازمہ کو دفتر جلدی پہنچنے پر نقصان اٹھانا پڑا

اسپین کے شہر الیکانٹے میں ایک ڈیلیوری کمپنی نے ایک خاتون ملازمہ کو اس کے آفس جلدی پہنچنے کی وجہ سے ملازمت سے فارغ کردیا۔ عام طور پر ملازمین کے دیر سے آنے کی عادت انہیں نوکری سے محروم کرا دیتی ہے، لیکن یہ واقعہ اس کی بالکل برعکس ہے، جہاں ملازمہ کے وقت سے پہلے آنے کو مسئلہ قرار دیا گیا۔

خاتون ہر روز صبح 6:45 سے 7:00 بجے کے درمیان دفتر پہنچ جاتی تھیں، حالانکہ ان کے اور کمپنی کے درمیان معاہدے کے مطابق ان کی شفٹ صبح 7:30 بجے شروع ہوتی تھی۔ تاہم خاتون اپنے کولیگز سے پہلے دفتر پہنچ کر اپنی شفٹ کا آغاز کر دیتی تھیں۔ یہ رویہ خاتون کے منیجر کو پسند نہیں آیا اور 2023 میں انہیں پہلی مرتبہ جلدی آفس پہنچنے پر سرزنش کی گئی۔

خاتون کو اس کے بعد بھی متعدد وارننگز دی گئیں، لیکن انہوں نے ان کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنا معمول جاری رکھا۔ کمپنی کے مطابق خاتون کے جلدی پہنچنے پر ان کے پاس انجام دینے کے لیے کوئی کام موجود نہیں ہوتا تھا، لیکن وہ کمپنی کے تعاون پر راضی نہیں تھیں اور دی گئی وارننگز کو نظر انداز کر کے اپنی مرضی سے دفتر پہنچتی رہیں۔

یہ بھی پڑھیں: فیفا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امن ایوارڈ سے نواز دیا

آخرکار، کمپنی نے خاتون کے عمل کو ’سنگین بدتمیزی‘ قرار دیتے ہوئے اس سال انہیں ملازمت سے فارغ کردیا۔ خاتون نے ملازمت سے فارغ ہونے کے بعد کمپنی کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کردیا، لیکن عدالت نے کمپنی کے موقف کو تسلیم کرتے ہوئے فیصلہ کمپنی کے حق میں سنایا۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت میں فلائٹ شیڈول متاثر، جوڑا اپنی شادی کے استقبالیے میں آن لائن شریک

یہ واقعہ ایک نادر مثال ہے جس میں ملازمہ کی وقت سے پہلے آنے کی عادت اسے نوکری سے محروم کرانے کا سبب بنی، اور اس کہانی نے ملازمین اور اداروں کے درمیان شیڈول اور قواعد کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔

Scroll to Top