موبائل

بیرونِ ملک سے موبائل لانے والوں ہو جائیں ہوشیار !نئے ٹیکس ریٹس جاری

اسلام آباد : حکومتِ پاکستان نے بیرونِ ملک سے لائے جانے والے نئے، استعمال شدہ موبائل فونز پر عائد ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کی تازہ ترین تفصیلات جاری کر دی ہیں ۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے یہ بریفنگ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو دیتے ہوئے واضح کیا کہ ملک میں درآمد ہونے والے موبائل فونز پر مختلف نوعیت کے ٹیکس الگ الگ شرح کے تحت وصول کیے جاتے ہیں ، جن میں کسٹم ڈیوٹی ، موبائل لیوی ، ریگولیٹری ڈیوٹی ، سیلز ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس شامل ہیں ۔

ایف بی آر حکام کا کہنا تھا کہ موبائل فون کی اصل قیمت کا تعین ویلیوایشن رولنگ کے ذریعے کیا جاتا ہے ، جس کے تحت ہر ماڈل کی قیمت بین الاقوامی معیار اور سابقہ درآمدی اعداد و شمار کو مدنظر رکھ کر طے کی جاتی ہے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ملک میں غیر رجسٹرڈ موبائل فونز سے متعلق پی ٹی اے کا بڑا فیصلہ

اگر کسی مخصوص ماڈل کی ویلیوایشن رولنگ دستیاب نہ ہو تو گزشتہ 90 دنوں میں آنے والی درآمدات کے ریکارڈ کی بنیاد پر قیمت مقرر کی جاتی ہے تاکہ ٹیکس کے تعین میں شفافیت برقرار رہے ۔

حکام نے بتایا کہ مختلف قیمت کیٹیگریز کے مطابق ٹیکس کی شرحیں بھی مختلف ہوتی ہیں ۔ کم قیمت فونز کے لیے ٹیکس کا بوجھ نسبتاً کم رکھا گیا ہے تاکہ عوام کو بنیادی سطح پر موبائل فون کی دستیابی میں دشواری نہ ہو۔ اسی سلسلے میں 30 ڈالر تک کی مالیت والے موبائل فونز پر عائد ٹیکسوں کی تفصیل بھی پیش کی گئی ۔

ایف بی آر کے مطابق 30 ڈالر تک کے فون پر 100 روپے موبائل لیوی ، 300 روپے ریگولیٹری ڈیوٹی ، 18 فیصد سیلز ٹیکس اور 70 روپے ودہولڈنگ ٹیکس وصول کیا جاتا ہے ۔

حکام کا مزید کہنا ہے کہ یہ نظام درآمدی عمل میں شفافیت لانے اور مقامی مارکیٹ کو مستحکم رکھنے کے مقصد سے وضع کیا گیا ہے جبکہ ہائی اینڈ فونز پر زیادہ ٹیکسوں کا اطلاق مقامی کسٹمز ریونیو میں اضافہ کرنے میں مدد دیتا ہے ۔

Scroll to Top