کوہالہ احتجاج، مرکزی شاہراہ بند، مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا

کوہالہ کے نزدیک تحریک حقوق بکوٹ سرکل کے احتجاج کا دوسرا روز جاری ہے، جس کے باعث مظفرآباد، باغ، راولاکوٹ، جہلم ویلی اور نیلم ویلی جانے والی مرکزی شاہراہ مسلسل 48 گھنٹوں سے مکمل طور پر بند ہے۔

ضلع ایبٹ آباد کی حدود میں ہونے والے اس احتجاج نے ہزاروں مسافروں کو اذیت ناک صورتحال میں ڈال دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق شدید ٹھٹھرتی سردی میں مرد، خواتین، بچے اور بزرگ افراد رات کو گاڑیوں میں جاگ کر گزارنے پر مجبور ہیں۔ مسافروں کے پاس نہ مناسب خوراک ہے، نہ گرم لباس، اور نہ ہی آرام کرنے کا کوئی انتظام موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں:استعمال شدہ موبائلز کی خریداری سے قبل احتیاطی تدابیر سامنے آگئی

گذشتہ رات دس بجے سے اپنے معصوم بچوں اور فیملی کے ہمراہ بند ٹریفک میں پھنسے جہلم ویلی سے تعلق رکھنے والے کونسلر دانیال مظفرخان کا کہنا ہے کہ درجہ حرارت نقطۂ انجماد کے قریب ہونے کے باوجود مظاہرین انسانی ہمدردی کا لمحہ بھر بھی فکر نہیں کر رہے۔

مسافروں نے شکوہ کیا کہ ’’احتجاج کرنے والوں نے علاقائی حق کے نام پر پورے خطے کے لوگوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ 48 گھنٹے گزرنے کے باوجود ایبٹ آباد کی حدود میں انتظامی مشینری اور ضلعی قیادت ٹس سے مس نہیں ہوئی۔ مقامی انتظامیہ ہنگامی بنیادوں پر کوئی متبادل راستہ فراہم نہ کرسکی، نہ ہی مذاکرات کے ذریعے شاہراہ کھلوانے کی کوئی سنجیدہ کوشش سامنے آئی۔ سب سے بڑھ کر اس حلقے سے منتخب کے پی کے اسمبلی کے ارکان بھی مسلسل خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔’’

مسافروں نے حکومتی و انتظامی رویے کی چشم پوشی سے تنگ آکر جی او سی مری سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری مداخلت کرکے لوگوں کو اذیت سے نکالا جائے اور شاہراہ کھلوائی جائے۔

یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد پولیس کے 1016 افسران،اہلکاروں کو پرموشنز مل گئی

یہ احتجاج اور بندش مسافروں کے لیے شدید مشکلات پیدا کر چکی ہے، جبکہ مقامی اور اعلیٰ حکومتی سطح پر اب تک کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔

Scroll to Top