امریکا میں آباد افغان کمیونٹی نے واشنگٹن میں نیشنل گارڈز پر فائرنگ کے واقعے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ ایک فرد کے اقدام کو بنیاد بنا کر پوری افغان برادری کے خلاف کوئی اجتماعی اقدام نہ کیا جائے۔ کمیونٹی کا کہنا ہے کہ کسی ایک شخص کے جرم کو پوری قوم یا تمام شہریوں کے ساتھ جوڑنا نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ اس سے وہ ہزاروں افراد بھی متاثر ہو رہے ہیں جو امریکا میں محفوظ مستقبل کی تلاش میں ہیں۔
امریکن افغان کمیونٹی کی جانب سے جاری بیان میں واضح طور پر کہا گیا کہ فائرنگ کا واقعہ کسی پوری قوم کا مؤقف نہیں تھا بلکہ ایک فرد کی جانب سے کیا گیا مجرمانہ عمل تھا، اس لیے اسے وسیع بنیاد پر کسی کمیونٹی کی شناخت یا کردار کے ساتھ منسلک کرنا درست طرزِ عمل نہیں ہوگا۔ بیان کے مطابق یہ عمل ہزاروں ایسے افغان باشندوں کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے جو امریکا میں قانونی طریقے سے رہنے یا آباد ہونے کے خواہشمند ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نیشنل گارڈز پر حملہ: ٹرمپ کا ایشیائی ممالک سے امریکہ ہجرت روکنے کا اعلان
برطانوی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایک افغان باشندے نے امریکی انتظامیہ سے اپیل کی کہ امیگریشن سے متعلق حالیہ فیصلے پر ازسرِنو غور کیا جائے، کیونکہ اس فیصلے نے اُن تمام افراد کو غیر یقینی صورتحال میں ڈال دیا ہے جن کی درخواستیں برسوں سے زیرِ التوا تھیں۔ ان کے مطابق امیگریشن درخواستوں کی معطلی نے پوری کمیونٹی میں بے چینی پیدا کر دی ہے اور لوگ مستقبل کے حوالے سے شدید پریشانی کا شکار ہیں۔
ایک دیگر افغان شہری نے بتایا کہ وہ افغانستان میں طالبان کے خطرات سے بچنے کے لیے امریکا آئے تھے، لیکن نئی پابندیوں کے باعث اب یہاں بھی اُن کے لیے مسائل کھڑے ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ امید لے کر امریکا پہنچے تھے، تاہم موجودہ صورتحال نے اُن کے لیے نئے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغان شہری کی فائرنگ سے زخمی خاتون اہلکار دم توڑ گئی، ٹرمپ کی تصدیق
واضح رہے کہ نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر فائرنگ کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے افغان شہریوں کی تمام نئی امیگریشن درخواستوں کو عارضی طور پر روک دیا ہے، جس پر افغان کمیونٹی نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کمیونٹی کے مطابق اگر یہ پابندی برقرار رہی تو اس کے اثرات ہزاروں خاندانوں پر مرتب ہوں گے جو قانونی طریقے سے اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔




