بھارتی آبی جارحیت سے نمٹنے کے لیے دریائے چناب پر چنیوٹ کے مقام پر ڈیم بنانے کا فیصلہ پاکستان کی آبی پالیسی کے اہم ترین اقدامات میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔ اس فیصلے پر عمل درآمد کے حوالے سے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس سینیٹر شہادت اعوان کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں متعلقہ حکام نے ڈیم منصوبے کے حوالے سے پیش رفت سے آگاہ کیا۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ دریائے چناب پر مجوزہ ڈیم کی فزیبلٹی اسٹڈی مکمل ہو چکی ہے۔ حکام کے مطابق منصوبے کا پی سی ون تیاری کے مراحل میں ہے، جس کے مکمل ہوتے ہی اس پر مزید پیش رفت تیز ہو جائے گی۔ اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ 824 ارب روپے کا قومی فلڈ پروٹیکشن پلان اس وقت مشترکہ مفادات کونسل سے منظوری کا منتظر ہے۔ متعلقہ اداروں کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کی منظوری کے بعد ملک میں سیلابی صورت حال سے نمٹنے کی صلاحیت مزید بہتر ہو جائے گی۔
اجلاس میں سینیٹ کمیٹی نے صوبوں کو ہدایت کی کہ وہ دریاؤں پر قائم تجاوزات کو فوری طور پر مکمل طور پر ہٹائیں، تاکہ کسی بھی ممکنہ سیلابی خطرے سے نمٹا جا سکے۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ دریاؤں کے قدرتی بہاؤ میں رکاوٹیں خطرناک صورتحال پیدا کر سکتی ہیں، اس لیے ان کا خاتمہ ناگزیر ہے۔
چیئرمین کمیٹی نے پنجاب اور سندھ سمیت مختلف صوبوں میں دریاؤں کے راستوں سے تجاوزات کا خاتمہ یقینی نہ بنانے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر اگلے مون سون سے قبل یہ تجاوزات نہ ہٹائی گئیں تو یہ مجرمانہ فعل تصور کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ اداروں کو اس حوالے سے اپنے اقدامات تیز کرنے ہوں گے۔
اجلاس کے دوران واپڈا حکام نے بھی کمیٹی کو ملک بھر میں واٹر فلو کی نگرانی کے نظام پر آگاہ کیا۔ حکام نے بتایا کہ سیلاب سے قبل وارننگ سسٹم کے لیے نصب کیے جانے والے ٹیلی میٹری سسٹم پر بھی پیش رفت جاری ہے، جس کا مقصد قبل از وقت الرٹ جاری کر کے نقصانات کو کم سے کم کرنا ہے۔
یہ تمام نکات پاکستان میں پانی کے انتظام، سیلابی خطروں میں کمی، اور بھارتی آبی دباؤ کے مقابلے میں مضبوط حکمت عملی سازی کے تسلسل کو ظاہر کرتے ہیں۔




