اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس دھماکے کا ماسٹر مائنڈ اور سہولت کار گرفتار

اسلام آباد: کچہری دھماکے کا ماسٹر مائنڈ اور سہولت کار گرفتار، خودکش حملہ آور کی شناخت بھی ہوگئی۔

اسلام آباد کے جی-11 جوڈیشل کمپلیکس میں ہونے والے خوفناک دھماکے کے ماسٹر مائنڈ اور سہولت کار کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق جوڈیشل کمپلیکس دھماکے کا سہولت کار راولپنڈی کے حدود میں گرفتار کیا گیا جبکہ حملے کا ماسٹر مائنڈ خیبر پختونخوا میں تقریباً 40 گھنٹے بعد پکڑا گیا۔ دونوں کو ایک پوشیدہ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ خودکش حملہ آور کی شناخت بھی کر لی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق حملہ آور افغان نژاد تھا اور موٹر سائیکل پر اسلام آباد آیا تاکہ معصوم شہریوں کی جانیں لے سکے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس دھماکے میں کم از کم 12 افراد شہید اور 27 دیگر شدید زخمی ہوئے، جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔

یہ بھی پڑھیں: ڈی جی آئی ایس پی آر کا طلبا کے ساتھ پاکستان آرمی کے کردار پر اجلاس

وزیر داخلہ محسن نقوی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ دھماکے میں 12 افراد شہید اور 27 دیگر زخمی ہوئے۔ وزیر داخلہ کے مطابق دھماکہ سہ پہر 12:39 بجے ہوا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ خودکش حملہ آور کا ارادہ جوڈیشل کمپلیکس کے اندر داخل ہونا تھا لیکن موقع نہ ملنے پر اس نے پولیس وین کو نشانہ بنایا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ مستقبل میں اس قسم کے المناک واقعات سے بچاؤ کے لیے اسلام آباد کی سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ زخمیوں کو پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (PIMS) میں طبی امداد دی جا رہی ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

یہ دھماکہ ملکی تاریخ کے لیے ایک افسوسناک واقعہ ہے، جس نے نہ صرف عوام میں خوف پیدا کیا بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ہنگامی تیاریوں کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ حکام نے اس واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ شامل افراد کے نیٹ ورک کو مکمل طور پر بے نقاب کیا جا سکے اور آئندہ ایسے حملوں کی روک تھام کی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: کینیڈا نے بین الاقوامی گریجویٹ اسٹوڈنٹس کے اسٹڈی پرمٹ قوانین آسان کر دیے

یہ واقعہ اسلام آباد کی سکیورٹی اور قومی استحکام کے لیے ایک بڑی چیلنج کے طور پر سامنے آیا ہے، جس پر تیزی سے کارروائی کی گئی اور ذمہ دار عناصر کو جلد گرفتار کر لیا گیا، جس سے عوام میں کچھ حد تک اطمینان پیدا ہوا ہے۔

Scroll to Top