ڈونلڈ ٹرمپ کی بی بی سی کو ایک ارب ڈالر ہرجانے کی دھمکی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو ایک ارب ڈالر ہرجانے کی دھمکی دی ہے۔ یہ معاملہ ایک دستاویزی فلم میں ان کی تقریر کی متنازع ایڈیٹنگ سے متعلق ہے جس پر ٹرمپ نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔

صدر ٹرمپ کی قانونی ٹیم کے مطابق، انہوں نے بی بی سی کے خلاف ایک ارب ڈالر ہرجانے کی قانونی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔ فرانسیسی خبر ایجنسی کو دیے گئے بیان میں ٹرمپ کے وکیل نے کہا کہ صدر نے بی بی سی کو جمعے تک کا وقت دیا تھا تاکہ وہ دستاویزی فلم کو ہٹا کر معافی مانگے۔

یہ بھی پڑھیں: ایلون مسک: جہازوں اور لگژری گاڑیوں کے مالک مگر 50 ہزار ڈالر کے گھر میں رہائش

امریکی صدر کے وکیل کا کہنا تھا کہ بی بی سی نے جھوٹے، ہتک آمیز، تحقیر آمیز اور اشتعال انگیز بیانات نشر کیے جن سے صدر کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔ وکیل نے خبردار کیا کہ اگر ادارہ ان بیانات کو واپس نہیں لیتا اور معافی نہیں مانگتا تو ایک ارب ڈالر ہرجانے کے لیے قانونی کارروائی کی جائے گی۔

ادھر بی بی سی کے چیئرمین نے صدر ٹرمپ کی تقریر کی ایڈیٹنگ پر معذرت کر لی ہے۔ اس تنازعے کے بعد گزشتہ روز بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل اور سی ای او مستعفیٰ ہو چکے ہیں، جس سے معاملہ مزید سنگین شکل اختیار کر گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حج انتظامات میں انقلابی قدم،ڈرونز کے ذریعے ادویات سپلائی ہونگی

دستاویزی فلم میں 6 جنوری 2021 کو امریکی کیپٹل ہل واقعے کے روز صدر ٹرمپ کی تقریر کے مختلف حصوں کو اس انداز میں جوڑا گیا کہ ایسا محسوس ہوا جیسے وہ اپنے حامیوں کو کیپٹل ہل کی طرف مارچ کرنے اور ’شدید مزاحمت‘ کرنے کے لیے کہہ رہے ہوں۔

ایڈیٹ شدہ پروگرام گزشتہ سال امریکی انتخابات سے صرف ایک ہفتہ قبل نشر کیا گیا تھا، جس کے بعد سے بی بی سی کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

Scroll to Top