پاکستان کی بڑھتی بین الاقوامی مقبولیت، کیا بھارت ایک اور فالس فلیگ آپریشن کی تیاری کر رہا ہے ؟

بھارت نے پاکستان کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی ساکھ سے خائف ہو کر فالس فلیگ منصوبے ترتیب دینا شروع کر دیے ہیں، بھارتی سیکیورٹی اداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے پاکستان کی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) سے منسلک ایک ’وائٹ کالر دہشتگرد نیٹ ورک‘ کا سراغ لگا لیا ہے، جس میں اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد، بشمول ڈاکٹرز، انجینئرز اور پی ایچ ڈی اسکالرز شامل ہیں۔

بھارتی میڈیا کے پروپیگنڈے کے مطابق سیکیورٹی اداروں نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی نے خفیہ نگرانی سے بچنے کے لیے ایک نئی حکمتِ عملی اپنائی ہے، جس کے تحت پیشہ ور اور تعلیم یافتہ افراد کو بھرتی کر کے دہشتگرد سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

بھارتی میڈیا حکام کے حوالے سے یہ بھی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ اس نیٹ ورک کے ذریعے بھارت میں اب تک کے سب سے بڑے حملوں میں سے ایک منصوبہ تیار کیا جا رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ممتاز ادبی شخصیت ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا انتقال کر گئیں

بھارتی حکام کے مطابق جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں، خصوصاً بڈگام اور سری نگر میں سیکیورٹی فورسز نے مشترکہ کارروائیاں کرتے ہوئے متعدد افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ان میں دو میڈیکل پروفیشنلز ڈاکٹر عادل احمد راتھر اور ڈاکٹر مزمل شامل ہیں، جن پر الزام ہے کہ وہ کالعدم تنظیم جیشِ محمد سے منسلک تھے۔

بھارتی حکام کا پروپیگنڈا ہے کہ حالیہ کارروائیوں کے نتیجے میں تین بڑے دہشتگرد حملے ناکام بنائے گئے۔ ایک اعلیٰ افسر کے حوالے سے بتایا جا رہا ہے کہ ’آئی ایس آئی ڈاکٹرز کو اس لیے استعمال کر رہی تھی تاکہ وہ عام سیکیورٹی نظام سے بچ سکیں اور بغیر شک کے سرگرمیاں جاری رکھیں۔‘

رپورٹس کے مطابق یہ انکشاف اس وقت ہوا جب ایک شخص کو جیشِ محمد کا پروپیگنڈا مواد سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ تفتیش کے دوران اس نے ایسے نیٹ ورک کے بارے میں معلومات فراہم کیں جو اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کے ذریعے دہشت گردی کے لیے مالی و تکنیکی مدد فراہم کر رہا تھا۔

بھارتی میڈیا نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ گجرات اے ٹی ایس نے حال ہی میں ایک پی ایچ ڈی اسکالر اور عالمِ دین کو گرفتار کیا ہے جو مبینہ طور پر حیاتیاتی ہتھیار تیار کرنے میں ملوث تھا، تاہم اس الزام کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

بھارتی حکام کے مطابق یہ نیٹ ورک امریکا سمیت مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے تعلیم یافتہ افراد کے ذریعے کام کر رہا تھا، جو اپنی سرگرمیوں کو تحقیقی یا انسانی خدمت کے منصوبوں کے پردے میں چھپاتے تھے۔

سیکیورٹی اہلکاروں نے اسے ’ہائیبرڈ وارفیئر‘ کا نیا مرحلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے ’تعلیم یافتہ اسلامک‘ کو دہشت گرد نیٹ ورک میں شامل کرنا قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی مارکیٹ میں لگژری گاڑیوں کا مقابلہ، بہترین کون سی ہے؟

ابھی تک پاکستان کی جانب سے ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے الزامات اکثر بھارت میں انتخابی یا سیاسی مواقع کے دوران سامنے آتے ہیں، لہٰذا ان کی تصدیق بین الاقوامی اور غیر جانب دار ذرائع سے ہونی چاہیے تاکہ ان کی سچائی کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔

Scroll to Top